السلام علیکم!
حضرت آپ کا کیا حال ہے؟ امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے، حضرت میں سول انجینئر ہوں ،اور کنسٹرکشن کا بزنس کرتا ہوں، حضرت میں نے آپ سے یہ مشورہ کرنا تھا کہ میں اللہ کے ساتھ تحریری ایگریمنٹ کرنا چاہتا ہوں، اس طور پر کہ میری کُل آمدنی میں جو نفع ہوگا، اس میں سے اللہ کا ۳۳ء۳۳ فیصد رکھنا چاہتا ہوں اس حوالے سے میری راہ نمائی فرمائیں کہ میں صرف دل ہی میں نیت کروں یا تحریری طور بھی لکھ لوں؟ تحریری طور پر لکھنے میں کوئی حرج تو نہیں ہے؟
صرف دل میں نیت کر لینا بھی کافی ہے، تاہم اگر سائل اس کو تحریر میں لانا چاہے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
قال اللہ تعالیٰ: ﴿يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ﴾ (البقرة: 276)۔
وفي سنن الترمذي: عن أنس بن مالك قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إن الصدقة لتطفئ غضب الرب وتدفع ميتة السوء»: «هذا حديث حسن غريب من هذا الوجه» اھ (3/ 43)۔
وفي كنز العمال: 15763- "إن الصدقة لا تزيد المال إلا كثرة". "عد عن ابن عمر". (6/ 294)۔
وفي المعجم الكبير: عن عقبة بن عامر قال: قال رسول الله صلى الله عليه و سلم: (ان الصدقة لتطفئ عن أهلها حر القبور وانما يستظل المؤمن يوم القيامة في ظل صدقته) اھ (17/ 286) ۔