کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک نماز جنازہ ادا کی گئی اور نماز جنازہ میں دیوبند ی اور بریلوی حضرات تھے، جبکہ امام دیوبندی تھا، جنازہ کے فوراً بعد میت اٹھا کردفنانے کے لیے لے گئے، اور بریلویوں کا معمول ہے کہ جنازہ کے بعد دعا مانگتے ہیں اس طرح سے کہ جنازہ کے بعد بیٹھ کر دعا مانگتے ہیں اور پھر دفنانے کےلیے لے جاتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ یہ بیٹھنا اور دعا کرنا اس حدیث سے ثابت ہے:
’’إذا صلیتم علی المیت فاخلصوا لہ الدعاء‘‘
’’مشکوۃ اور ابن ماجہ‘‘ سے انہوں نے یہ استدلال پیش کیا اور مفتی احمد یار خان صاحب کی کتاب ’’جاء الحق‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’إذا‘‘ حرف شرط ہے اور’’فاخلصوا‘‘ اس کے لیے جز اء ہے شرط اور جزاء میں تغایر ہوتا ہے، اس حدیث سے نماز جنازہ کےبعد جو دعا ہے وہ مراد نہیں ہے، بلکہ سلام پھیر کر الگ بیٹھ کر دوبارہ میت کےلیے دعا کرنی ہوگی، لہٰذا آپ حضرات سے عرض ہے کہ ہمیں اس اشکال کا جواب لکھ کر ہمیں مطمئن کریں تاکہ ہمیں اپنے عمل پر یقین ہوجائے۔ بینوا توجروا
نمازِ جنازہ چونکہ خود دعاء ہے، اس لیے اس سے فراغت کے فوراً بعد انفرادی یا اجتماعی طور پر ہاتھ اٹھاکر دعا کرنے کا کوئی جواز نہیں اور نہ ہی اس عمل کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے کوئی ثبوت ہے۔ آنحضرتﷺ، حضرات صحابہ کرام، تابعین، اتباع تابعین نے ایک دو نہیں سینکڑوں ، بلکہ ہزاروں جنازے پڑھے اور پڑھائے ہیں ، مگر کسی سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے نمازِ جنازہ سے فارغ ہونے کے فوراً بعد دعا مانگی ہو یا دعا مانگنے کےلیے کہا ہو۔
یہی وجہ ہے کہ حضرات فقہاءِ کرام احناف نے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کرنے کو ممنوع اور مکروہ تو کہا ہے، مگر جائز یا سنت کسی ایک نے بھی نہیں کہا ، چنانچہ فقہاءِ احناف میں سے بعض کے اقوال مع حوالہ جات کے درج ذیل لکھے جاتے ہیں، چنانچہ امام ابوبکر بن حامد الحنفی فرماتے ہیں:
إن الدعا بعد صلاۃالجنازۃ مکروہ (محیط باب الجنائز)۔
امام طاہر بن احمد البخاری الحنفی (المتوفی ۵۴۲ھ) خلاصۃ الفتاویٰ میں لکھتے ہیں:
علامہ ابن نجیم الحنفی لکھتے ہیں:
ولا یدعوا بَعد التسْلِیْم اھ (بحرائق ۲/۱۸۳)۔
ملا علی قاری اپنی کتاب ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں تحریر کرتے ہیں:
ولا یدعو للمیت بعد صلاۃالجنازۃلأنہ یشبہ الزیادۃفی صلاۃالجنازۃ. (3/ 1213)۔
اس کے علاوہ اور بھی فقہاءِ کرام نے جنازہ کے بعد دعا کو ممنوع کہا ہے، جن کی عبارات کو طوالت کے خوف سے چھوڑ دیا گیا ہے۔
اس کے بعد جاننا چاہیے کہ مفتی احمد رضا خان صاحب نے اپنی کتاب ’’جاء الحق‘‘ میں مذکور مشکوۃ شریف کی حدیث سے نمازِ جنازہ کے بعد دعا کے ثبوت پر جو استدلال پیش کیا ہے ان کا مذکور استدلال احادیث میں عدمِ ممارست، کم فہمی اور علم النحو سے واقفیت نہ ہونے کی وجہ سے ہے، اس لیے کہ احادیث میں غور کرنے سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مذکور حدیث میں اخلاصِ دعا سے مراد جنازہ کے اندر ہی کی دعا ہے نہ کہ جنازہ کے بعد کی دعا، اس لیے کہ آپﷺ نے اپنے عمل سے یہ واضح کر دیا کہ یہ اخلاص فی الدعاء نماز جنازہ کے اندر ہی ہونا چاہیے نہ کہ نماز کے فوراً ،بعد کیونکہ آنحضرتؐ سے نماز جنازہ کے بعد دعا کا ثبوت نہیں۔
ثانیاً : اس لیے کہ یہ معنیٰ حدیث کے روح کے خلاف ہے ، کیونکہ آپ تو یہ تعلیم دینا چاہتے ہیں کہ میت پر جب تم نمازِ جنازہ پڑھو تو اس میں نہایت اخلاص سے دعا کرو، یہ مطلب نہیں کہ نماز جنازہ تو بغیر اخلاص کے پڑھ لو اور اس کے بعد اخلاص سے دعا کرو، علاوہ ازیں ’’مدونۃ الکبریٰ‘‘ میں ہے کہ آپ نے فرمایا:
قال فی الصلوٰۃ علی المیت اخلصوہ بالدعاء (۱/۱۸۹)۔
اس میں صراحت ہے کہ اخلاص فی الدعاء نماز کے اندر مطلوب ہے۔
ثالثاً: اگر اس روایت کا یہی معنی ہوتا جو مفتی احمد یار خان صاحب نے اپنی کتاب ’’جاء الحق‘‘ میں کیا ہے تو جنازہ کے بعد کی دعا کو حضرات فقہاءِ کرام اور خصوصاً احناف خلافِ مسنون اور مکروہ کیوں کہتے؟ کیا فقہاء ِکرام سے جسارت ہو سکتی ہے کہ وہ آنحضرتؐ کے قول اور فعل کو بھی خلافِ سنت اور مکروہ کہہ دیں؟ رہا مفتی احمد یار خان صاحب کا یہ کہنا کہ شرط اور جزاء آپس میں مغائر ہوتے ہیں تو یہ مسلّم ہے، مگر یہ تغایر کبھی ذات اور ذات کا ہوتا ہےجیسے کہ ’’فَإِذا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا‘‘ میں، اسی طرح جزو کل کا ہوتا ہے جیسے ’’إذا قرأت القرآن فاستعذ باللہ من الشیطان الرجیم‘‘ میں ، اور کبھی یہ تغایر اطلاق و تقیید کا ہوتا ہے جیسے کہ ’’وَإِذَا سَأَلْتُمُوہنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوہنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ‘‘ میں جملہ شرطیہ کے اندر جو سوال ہے وہ مطلق ہے اور جملہ جزائیہ میں جو سوال ہے وہ ’’من وراء حجاب‘‘ کے ساتھ مقید ہے، یہ مطلب نہیں کہ جملہ شرطیہ میں جو سوال ہے وہ اس شئی کے بالکل مغایر ہے جو جملہ جزائیہ میں ہے، اس طرح سمجھنا چاہیے کہ مطلق صلوٰۃ جنازہ (جس میں ثناء درود وغیرہ کا پڑھنا اور باوضو قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہونا شامل ہے) کُل ہے اور میت کےلیے دعاجز ہے اور جز کل میں داخل ہوتا ہے، لہٰذا اس دعا سے مراد نمازِ جنازہ کے اندر کی دعا ہوگی نہ کہ نمازِ جنازہ کے بعد کی اور حدیث مذکور میں بھی شرط جزاء کے اندر اطلاق و تقیید کا تغایر مراد ہے۔(ماخوذ از راہِ سنت صفحہ نمبر۲۰۵) واللہ أعلم بالصواب