کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارےمیں کہ میں ایران کا رہنے والا ہوں جس جگہ میں رہتا ہوں ، وہاں پر ائمہ اور عوام ایامِ تشریق میں تکبیراتِ تشریق نہیں پڑھتے , اب پوچھنا یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ایامِ تشریق میں تکبیرات نہ پڑھے، اس کا کیا حکم ہے؟ اور ان تکبیراتِ تشریق کی کیا حیثیت ہے؟ اور کیا تکبیراتِ تشریق کے پڑھنے میں شہر اور گاؤں کا فرق بھی ہے کہ شہر والوں پر تو لازم ہوں،مگر دیہات والوں پر لازم نہ ہوں؟ براہِ مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں وضاحت فرمائیں۔
واضح ہو کہ ایّامِ تشریق میں فرض نماز کے بعد تکبیراتِ تشریق ہر عاقل، بالغ، مسلمان پر ایک دفعہ پڑھنا شرعاً واجب ہے اور ایک قول کے مطابق اس کا بآواز بلند ہونا بھی ضروری ہے، چاہے مرد ہو یا عورت، شہر کا رہنے والا ہو یا دیہات کا اور اس کو نہ پڑھنے والا ترکِ واجب کی وجہ سے گناہ گار ہوگا، لہٰذا مذکور علاقہ کے لوگوں پر لازم ہے کہ اس کے ترک سے احتراز کریں اور اب تک اس کے ترک کی صورت میں جو گناہ ہوا ہے، اس پر بصدقِ دل توبہ واستغفار بھی کریں۔
ففی الدر المختار: (و يجب تكبير التشريق) في الأصح للأمر به (مرة) و إن زاد عليها يكون فضلا قاله العيني اھ (2/ 177)۔
و فی المبسوط للسرخسي: و قال أبو يوسف و محمد رحمهما الله تعالى كل من يصلي مكتوبة في هذه الأيام فعليه التكبير مسافرا كان أو مقيما في المصر أو القرية رجلا أو امرأة في الجماعة أو وحده و هو قول إبراهيم - رحمه الله تعالى - اھ (2/ 44)۔
و فی البحرالرائق: و أما عندهما فھو واجب علی کل من یصلی المکتوبة لأنه تبع لها فیجب علی المسافر و المرأة و القروی ،قال فی السراج الوهاج و الجوهرة: و الفتویٰ علی قولهما فی هٰذا أیضاً فالحاصل أن الفتویٰ علی قولهما فی آخر وقته و فیمن یجب علیه اھ (۲/ ۱۶۶)۔
و فی حاشية ابن عابدين: (قوله صفته إلخ) فهو تهليلة بين أربع تكبيرات ثم تحميدة و الجهر به واجب و قيل سنة قهستاني اھ (2/ 178)۔