(+92) 0317 1118263

زکوۃ و نصاب زکوۃ

اسلامی بینک میں انویسٹ کردہ رقم پر زکوۃ کا حکم

فتوی نمبر :
70289
| تاریخ :
2024-01-12

اسلامی بینک میں انویسٹ کردہ رقم پر زکوۃ کا حکم

میرے پاس کچھ رقم ہے جو 2022 میں پلاٹ بیچنے پر حاصل ہوئی تھی ، اس سے قبل یہ رقم ایک سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رکھی گئی تھی ، جس کی رقم 2023 میں 80 لاکھ روپے تھی ، پھر نومبر 2023 کو اپنا بیلنس میزان اسلامک میچول فنڈ میں منتقل کردیا ، اور اب اس پر 85000 روپے منافع ماہانہ لیتا ہوں ، مذکورہ رقم میرے ماہانہ گھر کے اخراجات اور ادویات وغیرہ میں استعمال ہوتی ہے ، 80 لاکھ ابھی بھی اسلامک میچول فنڈ میں ہے ، براہ کرم ! میری رہنمائی فرمائیں کہ مجھے زکوٰۃ کتنی ادا کرنی چاہیئے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا کسی سودی بینک کے سیونگ اکاؤنٹ میں رقم رکھواکر اس پر سود حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں تھا جس پر اسے بصدقِ دل توبہ و استغفار اور سود کی مد میں حاصل شدہ رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کرنا لازم ہے ، جبکہ مستند مفتیان کرام کی زیرنگرانی اپنے معاملات سر انجام دینے والے اسلامک میچول فنڈ میں رکھی گئی اصل رقم اور زکوٰۃ کی تاریخ میں اس پر حاصل ہونے والے منافع میں سے جتنی رقم موجود ہو اس ساری رقم پر دیگر اموالِ زکوٰۃ کے ساتھ سائل کے ذمہ ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوٰۃ دینا لازم ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی رد المحتار : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم ، وإلا فإن علم عين الحرام لا يحل له و يتصدق به بنية صاحبه الخ۔ ( کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، ج۵ ، ص۹۹ ، ط۔ایم سعید )۔
أما الأثمان المطلقة و هي الذهب و الفضة أما قدر النصاب فيهما فالأمر لا يخلو إما أن يكون له فضة مفردة أو ذهب مفرد أو اجتمع له الصنفان جميعا ، فإن كان له فضة مفردة فلا زكاة فيها حتى تبلغ مائتي درهم وزنا وزن سبعة فإذا بلغت ففيها خمسة دراهم ( إلی قولہ ) وأما صفة هذا النصاب فنقول : لا يعتبر في هذا النصاب صفة زائدة على كونه فضة فتجب الزكاة فيها سواءكانت دراهم مضروبة ، أو نقرة ، أو تبرا ، أو حليا مصوغا ، أو حلية سيف ، أو منطقة أو لجام أو سرج أو الكواكب في المصاحف والأواني ، وغيرها إذا كانت تخلص عند الإذابة إذا بلغت مائتي درهم ، وسواء كان يمسكها للتجارة ، أو للنفقة ، أو للتجمل ، أو لم ينو شيئا. الخ۔ ( کتاب الزکوٰۃ ، فصل الاثمان المطلقۃ ، ج۲ ، ص۱۷ ، ط۔ دارالکتب العلمیۃ )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70289کی تصدیق کریں
0     25
متعلقه فتاوی
( view all )
زکوۃ میں مدرسہ کو فریج دینا 45037 610 ذاتی مکان بنانے کے لئے خریدے گئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم 30917 775 نصاب زکوۃ میں چاندی کے بجائے سونے کو معیاربنایاجاسکتاہے؟ 34685 703 زکوۃ کی ادائیگی میں سونے کی قیمت خرید یا قیمت فروخت کا اعتبار 40490 792 پانچ چھ تولہ سونے ملکیت پر زکوۃ کا حکم 44875 501 آن لائن زکوۃبھیجنے سےزکوۃ اداہوجائے گی؟ 39458 466 قرض اور کاروبار میں پھنسی ہوئی رقم کو زکوۃ شمار کرنا 32692 2092 قسطوں پر خریدی گئی گاڑی پر زکوٰۃ کا حکم 60456 1266 ترکہ کی تقسیم سے قبل زکوۃ کا حکم 49436 358 مکان کی تعمیر کیلئے رکھے ہوئے پیسوں پر زکوۃ ہوگی؟ 58119 672 اسٹیٹ بینک کے بیان کردہ نصاب کے مطابق زکوۃ دینا 45069 314 اموال زکویہ کا کسی کے قبضہ میں ہونے پر زکوٰۃ کا حکم 45068 380 بیوی کے سونے کی زکوۃ ادا کرنا شوہر کے ذمہ نہیں ہے 34837 559 زکوۃ کی ادائیگی میں سونے کی کونسی قیمت معتبر ہوگی؟ 45043 532 زکوۃ کی ادائیگی میں قیمت فروخت کا اعتبار ہوگا 50574 330 اسٹورمیں موجود مال کی ادائیگی زکوۃ میں کونسی قیمت معتبرہوگی؟ 35117 560 آئندہ سال کی زکوۃ ادا کرنا 60089 338 تعمیر کی نیت سے خریدے ہوئے پلاٹ پر زکوۃ کا حکم 49876 351 پراویڈنٹ پر زکوۃ کاحکم 34635 670 موبائل لوڈ کے ذریعہ زکوۃ کی ادائیگی کرنا 40622 361 پلاٹ خریدنے یا بیچنے کی نیت کرنے سے اس پر زکوۃ کا حکم 50053 362 جوگھریلو اشیاء سال بھراستعمال نہ ہو، اس پر زکوۃ واجب ہے؟ 40393 515 انویسٹ کردہ رقم پر زکوۃ کا حکم 57986 712 چورى ہونے كے بعد اگر بقد رنصاب مال موجود ہو تو زکوۃ کا حکم 13548 511 گزشتہ سالوں کی زکوۃ کا حکم اور ادائیگی کا طریقہ 65969 299