السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !
ہمارا مشترکہ کپڑوں کا کام ہے شرکا(پارٹنر) کی تعداد 5 ہے ، ہمارا سوال یہ ہے کہ ہم سب صاحب نصاب ہیں، ہم اپنی زکوۃ کی رقم جو ہماری بنتی ہے، اس میں سے ہم کپڑے زکوۃ کی مد میں مدرسے میں دے دیتے ہیں، معلوم یہ کرنا تھا کہ ہم جس ریٹ پر وہ سوٹ زکوۃ میں نکالتے ہیں ،اس میں ہم کم از کم 400 روپے منافع رکھ کر زکوۃ میں نکالتے ہیں عام لوگوں سے ہم 600 روپے منافع رکھ کر بیچتے ہیں، مثال کے طور پر ایک سوٹ 1000 کا ہے قیمت خرید
, زکوۃ نکالتے وقت اس کو ہم 1400 روپے کا لگاتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ اگر کوئی تیسرا شخص ہم کو پیسے دے دیتا ہے زکوۃ کے اور کہتا ہے آپ میری طرف سے اس کے سوٹ نکال کر مستحق لوگوں کو دے دیں، کیا یہ صحیح ہے او یہ بھی 1400 روپے کے حساب سے ہم دے دیتے ہیں۔
صورتِ مسئولہ میں سائل اور ان کے دیگر ساتھیوں کا مشترکہ کاروبار کی زکوٰۃ کا حساب کر لینے کے بعد یا تیسرے شخص کی جانب سے وکیل بن کر کپڑوں کی صورت میں زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے وقت زکوٰۃ کی مد میں دیے جانے والے کپڑوں کی قیمت، عام قیمتِ فروخت سولہ سو روپے کے بجائے چودہ سو روپے لگانا زیادہ احتیاط پر مبنی ہونے کی وجہ سے بلاشبہ جائز بلکہ مستحسن عمل ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی الفقہ الاسلامی: شرط المال المؤدی: یشترط أن یکون المؤدی مالاً متقوماً علی الإطلاق، سواء کان عند الحنفیۃ منصوصاً علیہ أم لا، من جنس المال الذی وجبت فیہ الزکاۃ أم من غیر جنسہ، والأصل عندھم القاعدۃ: أن کل مال یجوز التصدق بہ تطوعاً ، یجوز اداء الزکاۃ منہ، ومالا فلا، و علیہ: لو اعطی الفقیر سلعۃ من السلع کقماش أو خبز أو سکر أو سمن أو حذاء، ناویاً الزکاۃ صح الخ ( ج 3 ص 1976 ط: دار الفکر )۔
وفی الھندیۃ: إذا وكل في أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز الخ ( کتاب الزکاۃ ج 1 ص 171 ط: ماجدیۃ)۔