(+92) 0317 1118263

حرام طریقہ علاج و ادویات

حصولِ اولاد کے لئے "سروکیسی"کے طریقۂ کار کو اختیار کرنا

فتوی نمبر :
71020
| تاریخ :
2024-02-19

حصولِ اولاد کے لئے "سروکیسی"کے طریقۂ کار کو اختیار کرنا

السلام علیکم !
میرا سوال یہ ہے کہ ہماری شادی کو 16 سال ہو گئے ہیں اور بچے نہیں ہیں، بعض ڈاکٹر کو د کھایا ہے اور میں خود ڈاکٹر ہوں، کچھ ایسا مسئلہ ہے جو ڈاکٹر کو بھی سمجھ میں نہیں آرہا ہے اور کہا ہے کہ بچے نہیں ہو سکتے ، تو کیا ہم سروگیسی کر سکتے ہیں ؟ یہ تو بیماری ہے اس بارے میں شریعت میں کیا حکم ہے؟ شکریہ

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ "سروگیسی " میں چونکہ عموماً میاں بیوی کے نطفوں کے اختلاط سے حاصل ہونے والے مادے کے لئے کسی اجنبی عورت کے رحم کو کرایہ پر لیکر اس میں اسکی پرورش کی جاتی ہے، اسمیں چونکہ کسی غیر مرد کا نطفہ کسی اجنبیہ عورت کے رحم میں رکھا جاتا ہے جوکہ قرآن و حدیث کی رو سے ممنوع اور ناجائز ہے، لہذا حصولِ اولاد کے لئے سروگیسی کا طریقہ کار اختیار کرنا جائز نہیں جس سے احتراز لازم ہے، البتہ سخت مجبوری کے تحت صرف اس طریقہ کی گنجائش ہے کہ شوہر کے نطفے اور بیوی کے بیضے کا باہم اختلاط کرکے ٹیوب کے ذریعے اسے بیوی کے رحم میں رکھ دیا جائے جہاں وہ حمل پرورش پائے اور یہ عمل خود بیوی یا اسکے شوہر سے کروایا جائے یا کسی ماہر معالج عورت سے کروایا جائے اور اس دوران ستر و حجاب کا بھی پورا خیال رکھا جائے کہ ضرورت سے زیادہ ہرگز نہ کھولا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفقہ الاسلامی: التلقيح الصناعي هو استدخال المني لرحم المرأة بدون جماع. فإن كان بماء الرجل لزوجته، جاز شرعاً، إذ لا محذور فيه، بل قد يندب إذا كان هناك مانع شرعي من الاتصال الجنسي. وأما إن كان بماء رجل أجنبي عن المرأة لا زواج بينهما، فهو حرام؛ لأنه بمعنى الزنا الذي هو إلقاء ماء رجل في رحم امرأة، ليس بينهما زوجية۔ (ج3، ص552،ط:رشیدیہ)۔
وفی رد المحتار: تحت (قولہ وینبغی) وقال في الجوهرة: ‌إذا ‌كان ‌المرض ‌في ‌سائر ‌بدنها ‌غير الفرج يجوز النظر إليه عند الدواء، لأنه موضع ضرورة، وإن كان في موضع الفرج، فينبغي أن يعلم امرأة تداويها فإن لم توجد وخافوا عليها أن تهلك أو يصيبها وجع لا تحتمله يستروا منها كل شيء إلا موضع العلة ثم يداويها الرجل ويغض بصره ما استطاع إلا عن موضع الجرح اهـ (ج6، ص371،ط:سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالرب لحاظ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 71020کی تصدیق کریں
0     35