السلا علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرا سوال یہ ہے کہ میں دفتر میں کام کرتا ہوں ، وہ ہر رمضان میں راشن کے لئے پیسے دیتے ہیں ، جو کہ یہ بول کر دیتے ہیں کہ یہ زکوٰۃ کے پیسے ہیں ، اور یہ بھی بول کر پیسے دیتے ہیں کہ ہم آپ کو خرچ کرنے کے لئے دے رہے ہیں ، اور آپ کسی اور کو نہیں دے سکتے ، بات یہ ہے کہ میں چاہ رہا تھا کہ ان پیسوں سے کسی حقدار کی مدد ہوجائے ؟ مجھ پر زکوٰۃ واجب نہیں ہے ۔
واضح ہو کہ زکوۃ کی ادائیگی کے لئے ضروری ہے کہ زکوۃ کی رقم کسی مستحق زکوۃ کو مالک بنا کر دی جائے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل اگر زکوۃ کا مستحق نہیں ہے ، تو ایسی صورت میں دفتر والوں کا سائل کو زکوۃ کی مد میں راشن یا نقدی دینا درست نہیں ، اور نہ ہی اس طرح ان کی زکوۃ اداہوگی، البتہ اگر سائل مذکور رقم لے چکا ہو تو وہ رقم اصل مالکان کو واپس کردے یا ان کی اجازت سے کسی مستحقِ زکوۃ کو دیدے اپنے استعمال میں نہ لائے ۔
کمافی تنویر الابصار : ھی تملیک جزء مال عینہ الشارع من مسلم فقیر الخ ( ج2 ص 256 کتاب الذکاۃ ط سعید)۔
وفی البحر الرائق: ولو أدى زكاة غيره بغير أمره فبلغه فأجاز لم يجز؛ لأنها وجدت نفاذا على المتصدق؛ لأنها ملكه، ولم يصر نائبا عن غيره فنفذت عليه ولو تصدق عنه بأمره جاز ويرجع بما دفع الخ ( ج2 ص226 کتاب الذکاۃ شروط اداء الزکاۃ ط ماجدیۃ)۔
وفی ردالحتار: تحت (قوله: ولو دفع بلا تحر) أي ولا شك كما في الفتح.(الی قولہ) [تنبيه] في القهستاني عن الزاهدي: ولا يسترد منه لو ظهر أنه عبد أو حربي وفي الهاشمي روايتان ولا يسترد في الولد والغني وهل يطيب له؟ فيه خلاف، وإذا لم يطب قيل يتصدق وقيل يرد على المعطي. اهـ. .الخ (2 ص 353 باب المصرف ط سعید)۔