السلام علیکم !
محترم میں کرائےکے مکان میں رہتا ہوں ، میں نے ایک پلاٹ لیا تھا،لیکن مزید رقم نہ ہونے کیوجہ سے مکان نہ بنا سکا، اب میں نے وہ پلاٹ بیچ دیا ہے اور ایک کاروبار میں رقم لگائی ہے، تاکہ کمیٹی ڈال کر میں کوئی مکان خرید سکوں ، مجھے اس بارے میں سمجھ نہیں آ رہی , براہ مہربانی میری رہنمائی فرمائیں کہ کاروبار میں لگائی گئی رقم اور اس سے حاصل ہونے والے منافع پر زکوٰۃ کا کیا حکم ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے۔
صورتِ مسؤلہ میں سائل نے پلاٹ بیچ کر جو رقم کاروبار میں لگائی ہے ، اگر وہ بقدرِ نصاب ہو یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہو ، تو اس کاروبار سے ملنے والے منافع اور اصل رقم دونوں کو ملا کر سالانہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ ادا کرنی ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية اھ (کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 179، ط: ماجدیہ) ۔
و فیہ ایضاً: تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة اھ (کتاب الزکاۃ، ج 1، ص 178، ط: ماجدیہ) ۔