اگر کوئی شخص رقم کا مطالبہ کرے اور کہے کہ میں واپس دوں گا ، مگر رقم دینے والے شخص کو معلوم ہو کہ رقم واپس نہیں دے سکے گا تو وہ زکوٰۃ کی نیت سے دیدیتا ہے تو زکوٰۃ اداء ہوگئی ؟ جواب واٹس ایپ پر ارسال کیجئے ، شکریہ ۔
صورتِ مسئولہ میں اگر رقم کا مطالبہ کرنے والا شخص واقعۃً مستحقِ زکوٰۃ ہو تو دینے والا زکوٰۃ کی نیت سے رقم دے سکتا ہے ، اس سے اس کی زکوٰۃ ادا ہو جائیگی ، البتہ بعد میں اگر وہ شخص رقم واپس کردے تو بہتر یہ ہے کہ اس سے وہ رقم نہ لے ، اگر وصول کرلے تو افضل یہ ہے کہ مذکور رقم کسی مستحقِ زکوٰۃ کو صدقہ کردے ۔(کذا فی امداد الاحکام ج2،ص2)
کمافی الفتاوی الھندیۃ: ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلا عن المبتغى والقنية اھ (ج1، صـــ171، ط:ماجدیۃ)۔
وفی التنویر مع الدر: (وتسقط) الزكاة (عن موهوب له في) نصاب (مرجوع فيه مطلقا) سواء رجع بقضاء أو غيره (بعد الحول) لورود الاستحقاق على عين الموهوب، ولذا لا رجوع بعد هلاكه قيد به (أي بقوله عن موهوب له) لأنه لا زكاة على الواهب اتفاقا لعدم الملك اھ
وفی الشامیۃ تحت: (قوله: اتفاقا لعدم الملك)؛ لأن ملك الواهب انقطع بالهبة، وأشار بقوله اتفاقا إلى أن في سقوطها عن الموهوب له خلافا؛ لأن زفر يقول بعدمه إن رجع الواهب بلا قضاء؛ لأنه لما أبطل ملكه باختياره صار ذلك كهبة جدیدة وكمستهلك،قلنا: بل هو غير مختار؛ لأنه لو امتنع عن الرد أجبر بالقضاء فصار كأنه هلك شرح درر البحار اھ (ج2، صـــ308، ط:سعید)۔
قلت: وأما فی الصورۃ المسئولۃ فلا شک فی کون رد الموھوب لہ ھبۃ جدیدۃ لأنہ لاجبر علیہ من الواھب فیسقط الزکوۃ عن الواھب قطعاً إلا أنہ ینبغی للواھب أن لا یقبل ھذا الرد لما ورد فی الصحیح عن عمر رضی اللہ عنہ أنہ حمل رجلاً علٰی فرس فی سبیل اللہ ثم راٰہ یباع فی السوق فأراد شراءہ فنھاہ النبی ﷺ عن ذٰلک، وقال: لاتعد فی صدقتک اھ (امداد الاحکام، ج2، صـــ2، ط:کراتشی)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0