زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ

فتوی نمبر :
73206
| تاریخ :
2024-05-18
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

گزشتہ سالوں کی زکوۃ ادا کرنے کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میرے پاس (1999) میں اکتیس(31) تولہ سونا تھا، اور لاعلمی کی بناء پر میں نے کبھی زکاۃ نہیں نکالی، اب میرے پاس سونے کی اتنی مقدار نہیں بچی ہے، بہت کم ہے، اب اگر میں سالہا ئےگزشتہ کی زکاۃ کی ادائیگی کا ارادہ کرتی ہوں، تواس کا کیا طریقہ ہے، ان گزشتہ سالوں کی قیمت معلوم کرکے ادائیگی کروں یا آج کے حساب سے؟ اگر آج کے حساب سے میں اکتیس تولہ سونا کی قیمت لگا کر گزشتہ سالوں کی زکاۃ کی ادائیگی کا ارادہ کرتی ہوں، تو اب میرے بس کی بات نہیں ہے، اب میں اس کی ادائیگی سے عاجز ہوں، اور اب چونکہ وہ سونا میری ملکیت میں بھی نہیں رہا، بلکہ خرچ ہوگیا ہے، تو اب میں کیا کروں کوئی ایسی آسان صورت بتائیں کہ اس پر عمل ممکن ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہوکہ بقدر ِنصاب سونے کے مالک بننے کی صورت میں اس پر ہر قمری سال مکمل ہونے پر اس وقت تک ادائیگی زکوۃ لازم ہوتی ہے، جب تک کہ یہ سونا یا اس کے ساتھ دیگر اموالِ زکوۃ شامل کرکے مقدارِ نصاب تک پہنچ رہاہو، اور اگر اس کی زکوۃ کی ادائیگی بروقت نہ کی جائے تو ایسی صورت میں گزشتہ سالوں کی ادائیگئِ زکوۃ کے وقت موجودہ مارکیٹ ریٹ کا اعتبار کیا جائیگا۔
لہذا سائلہ کے پاس گزشتہ سالوں میں جتنے عرصہ تک اکتیس تولہ سونا موجود رہا، اتنے عرصہ تک اکتیس تولہ کے حساب سے اور اس کے بعد سونے کے کم یا زیادہ ہونے کی صورت میں ہر سال کے اعتبار سے اُس وقت کی موجود مقدار کے مطابق حالیہ ریٹ کے حساب سے ان تمام سالوں کی زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی، جس کا طریقہ یہ ہے ہر سال سونے کی موجود مقدار کی موجودہ مارکیٹ کے حساب سے قیمت لگاکر اس سے ڈھائی فیصد کے بقدر زکوۃ کی رقم منہا کردے، اس کے بعد بقیہ رقم یا موجود سونے کی قیمت سے دوسرے سال کی زکوۃ منہا کردے اسی طرح تمام سالوں کی زکوۃ کی رقم متعین ہونے کے بعد یہ رقم اپنے پاس نوٹ کرکے جس قدر جلد ممکن ہو سکے اس کی ادائیگی کی ترتیب بنائے، اور جیسے جیسے زکوۃ کی رقم ادا کرتی رہے، تو وہ مقدار زکوۃ کی مد میں واجب الادا رقم سے منہا کرتی رہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (نصاب الذھب عشرون مثقالا والفضۃ مائتا درھم کل عشرۃ) دراھم (وزن سبعۃ مثاقیل) الخ (ج2 صـ290 کتاب الزکاۃ با ب زکاۃ المال ط: سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: واما وجوب الزکاۃ فمتعلق بالنصاب اذالواجب جزء من النصاب واستحقاق جزء من النصاب یوجب النصاب اذالمستحق کالمصرف (الی قولہ) وبیان ذلک انہ اذا کان لرجل مائتا درھم او عشرون مثقال ذھب فلم یؤد زکاتہ سنتین یزکی سنۃ الاولیٰ ولیس علیہ للسنۃ الثانیۃ شیئ عند اصحابنا الثلاثۃ (الی قولہ) ولو کانت عشرا وحال علیھا الحول یجب للسنۃ الاولیٰ شاتان وللثانیۃ شاۃ الخ (ج2 صـ7 کتاب الزکاۃ ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالحنان رمضان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73206کی تصدیق کریں
0     886
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات