مفتی صاحب ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
میرے چار بچے ہیں اور گھر بھی کرایہ کا ہے میرے شوہر نشہ کرتا ہے اور مجھے میرے شوہر نے نشے کی حالت میں طلاق دی ہے تین دفعہ کہہ چکا ہے ۔ میرے شوہر کو انکے والدین نے عاق کردیا ہے اور میرے ساتھ کسی کی بھی کوئی امداد نہیں ہے، میں خود محنت کرکے یعنی جھاڑو ، پونچا کرکے اپنے بچوں کی ضروریات پوری کرتی ہوں، اور میرے گھر ہر سال اپنے اور پرائے لوگ زکوۃ اور فطرہ دیتے ہیں ، اور میں اپنے گھر کا کرایہ اپنی زکوۃ کے پیسوں سے دیتی ہوں ، اور میں نے اپنی محنت کے پیسوں کی کمیٹی ڈال کر تین لاکھ روپے لیے ہیں ، وہ میں نےآگے کسی کو کاروبار کیلیے دئیے ہیں اس کاروبار سے مجھے ہر مہینے پانچ ہزار روپے آتے ہیں جسے میں کمیٹی بھرتی ہوں میرے گھر کا کرایہ چھ ہزار روپے ہیں ،میں پورے سال کا کرایہ رمضا نی زکوۃ اورفطرے سے دیتی ہوں میں محنت کرکے اپنی تمام ضروریات یعنی اپنے بچوں کو پالتی ہوں، آپ بتائیں میں زکوۃ لے سکتی ہوں یا نہیں؟ میرا شوہر نشہ کرتا ہے، جیسا کہ میں نے بتایا کہ میرے شوہر نے مجھے طلاق دی ہے، طلاق دینے کے بعد بھی وہ مجھ سے تعلق رکھنا چاہتا ہے، اور وہ زبردستی کرتا ہے، وہ نہیں مانتا ہے کہ میں نے طلاق دی ہے ، آپ مجھے شریعت کے مطابق مشورہ دیجیئے کبھی کبھی گھر آتا ہے کبھی نہیں ، پندرہ سے بیس دن تک بھی نہیں آتا ، ہمیں ایک روپیہ بھی نہیں دیتا۔ شکریہ
سائلہ کے شوہر نے اگر واقعۃ سائلہ کو تین طلاقیں دیدی ہوں تو اب اس کےلیے سائلہ کے ساتھ شوہر کی حیثیت سے رہنا اور کسی قسم جسمانی تعلق رکھنا شرعا ناجائز اور حرام ہے ، جس سے اجتناب لازم ہے، جبکہ سائلہ پر بھی لازم ہے کہ اپنے سابق شوہر کو اپنے اوپر قطعا قدرت نا دے، بلکہ سابق شوہر کا گھر چھوڑکر والدین ، بھائیوں یا اپنے بچوں کے ساتھ الگ رہائش اختیار کرے۔
جبکہ سائلہ کے بیان کے مطابق چونکہ سائلہ فی الحال تین لاکھ سے زائد کی مالکہ ہے ، اور موجودہ وقت میں تین لاکھ روپے نصاب سے زائدہے ، لہذا سائلہ کا صاحب نصاب ہونے کی وجہ سے اس کیلیے کسی سے زکوۃ کی رقم وصول کرنا جائز نہیں ، تاہم چونکہ سائلہ صاحب نصاب ہونے کے ساتھ ساتھ ضرورت مند بھی ہے اس لیے اگر کوئی شخص سائلہ کو زکوۃ کی رقم دیدیتا ہے تو سائلہ کو خود لینے کی بجائے اپنی مستحق زکوۃ اولاد کو وہ رقم دلواکر اپنی ضروریات میں خرچ کرے ، ایسا کرنے سے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ بھی ادا ہوجائیگی اور سائلہ کی ضروریات بھی پوری ہوجائیگی ۔
قال الله تعالى في القرآن الكريم : إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ (التوبة:60)
وفي الدر المختار للعلامة الحصكفي: وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، (إلى قوله)(من مسلم فقير) ولو معتوها اه (2/258)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0