زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا شوہر اور بھائی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟

فتوی نمبر :
73795
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا شوہر اور بھائی کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین کہ مجھے ہیپا ٹائٹس بی ہے اور میں اپنا علاج کروانا چاہتاہوں میرے علاج پر ہر مہینے چار ہزار روپے خرچہ آراہے جبکہ میں ایک فیکٹری میں کام کرتاہوں اور ڈاکٹر نے کہاہے کہ علاج کے دوران تمہیں کام چھوڑنا پڑے گا۔
اس کے علاوہ میری بیوی کے پاس تقریباً ۹ تولہ سونا ہے جس میں سے چار تولہ میری طرف سے ہے اور پانچ تولہ اس کا اپنا ہے اور ہم نے اس کو سونے کا مالک بنادیاہے تو اس صورت میں صاحب نصاب میں ہوں یا میری بیوی آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں زکوٰۃ فنڈ میں سے اپنا علاج کرواسکتاہوں یا نہیں؟ جبکہ میری بیوی میرے علاج کیلئے اپنے زیورات دینے کیلئے تیار ہے گرھ میں تھوڑا بہت زمیندارہ ہے ا س کے علاوہ آمدنی کا کوئی خاص ذریعہ نہیں ہے قرآن وسنت کی روشنی میں وضاحت فرمائیں!
کیا بیوی اپنے شوہر کو یا بھائی ،بھائی کو زکوٰۃ دے سکتاہے؟
نوٹ: ایک بندے نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زکوٰۃ کی مد سے مدد کروں گا براہِ کرم کوئی حل بتائیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو زکوٰۃ نہیں دے سکتا اور اس طرح دینے سے زکوٰۃ ادا بھی نہیں ہوگی لہٰذا اس طرح لینے اور دینے سے احتراز لازم ہے۔ اب اگر شخص مذکور واقعتاً مستحق زکوٰۃ ہو اس طور پر کہ اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولے چاندی یا اتنی مالیت کا مالِ تجارت یا وہ شخص حاجاتِ اصلیہ سے زائد اتنی مقدار کی رقم کا مالک نہ ہو اور مذکور مرض کے علاج کیلئے بھی اس کے پاس کچھ نہ ہو تو اس صورت میں وہ بلا شبہ مستحق زکوٰۃ ہے اور اگر کوئی شخص مد زکوٰۃ سے اسے دیدے یا اس کال علاج کروا دے تو دینے والے کی زکوٰۃ بلا شبہ ادا ہوجائے گی۔

مأخَذُ الفَتوی

وفی الهندیة: (منها الفقیر) وهو من له ادنٰی شیئ وهو ما دون النصاب او قدر نصاب غیر نام وهو مستغرق فی الحاجة فلا یخرجه عن الفقیر ملك نصاب کثیرة نامیة اذا کانت مستغرقة بالحاجة. (۱/ ۱۸۷)
وایضًا فیها ولا تدفع المروة الٰی زوجھا عند ابی حنیفة کذا فی الهدایة. (۱۸۹)
وفی التنویر مع الدر: (ولا الٰی من بینهما ولاد) ولو مملوکا لفقیر او بینهما لزوجیة ول مبانة (۲/ ۳۴۶) واللہ اعلم!

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اشرف حاتم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 73795کی تصدیق کریں
0     530
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات