السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
حضرت مجھے معلوم کرنا تھا کہ میں نے ایک شخص کو دس لاکھ روپے ديئے تھے 2016 میں ، 2019 میں وہ شخص بھاگ گیا اور آج تک اس کا کوئی پتہ نہیں چل سکا ہے ، شروع میں اس شخص نے مجھے ڈھائی لاکھ کا نفع دیا تھا مگر جو باقی رقم وہ اس نے واپس نہیں کی مجھے، آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ جو زکوۃ میں دیتا ہوں اس میں سے اس رقم کو منہا کر سکتا ہوں؟بڑی مہربانی ہوگی اگر آپ جلد جواب دیں گے،شکریہ۔
جو شخص سائل سے دس لاکھ روپے لیکر بھاگ گیا ہے، اگر اس کو تلاش کرنے اور اس سے یہ رقم اصول کرنے کی امید نہ ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے ذمہ اس رقم کی زکوٰۃ لازم نہ ہوگی، البتہ اس کے علاوہ سائل کے پاس اموالِ زکوٰۃ میں سے جو کچھ بقدرِ نصاب موجود ہوگا، اس پوری رقم پر زکٰوۃ سائل کے ذمہ لازم اور ضروی ہوگی۔
کما فی ردالمحتار: تحت (قوله مليء) فعيل بمعنى فاعل وهو الغني (الی قولہ) ولو هرب غريمه وهو يقدر على طلبه أو التوكيل بذلك فعليه الزكاة وإن لم يقدر على ذلك فلا زكاة عليه. اهـ. الخ (ج2 ص266 کتاب الزکاۃ ط سعید)۔
وفیہ ایضاً: تحت (قوله وحيلة الجواز) أي فيما إذا كان له دين على معسر، وأراد أن يجعله زكاة عن عين عنده أو عن دين له على آخر سيقبض الخ (ج2 ص271 کتاب الزکاۃ ط سعید)۔