زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا شوہر زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بیوی کو پیسے دے سکتا ہے ؟

فتوی نمبر :
76639
| تاریخ :
2024-07-15
عبادات / زکوۃ و صدقات / زکوۃ و نصاب زکوۃ

کیا شوہر زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے بیوی کو پیسے دے سکتا ہے ؟

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!محترم مفتی صاحب آپ سے ایک مسئلہ میں رہنمائی چاہیے ، میری بیوی کے پاس 28.48gm سونا ہے،اس کی زکوه کی تاریخ ٣ ذوالحجہ ہے،٣ ذیوالحجہ کو اس نے زکوه دینی تھی ،اور ٣ ذوالحجہ کو اس کے پاس دس ہزار روپے تھے.اور وہ اس وقت پچاس ہزار کی مقروضہ تھی،اس صورت میں اس پر زکوہ فرض ہوئی یا نہیں؟اگر وہ مجھ سے کچھ پیسے لے کر زکوۃ ادا کرے تو یہ افضل عمل ہوگا یا نہیں؟جزاک اللہ ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کی بیوی کی ملکیت میں زکوٰۃ کی تاریخ میں سونے کی مذکور مقدار کے ساتھ چونکہ نقدی بھی موجود تھی، جس کی موجودہ مجموعی مالیت سے اگر قرض کے پچاس ہزار روپے منھا کئے جائیں تب بھی وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتی ہے، اس لئے سائل کی بیوی کے ذمہ سونے اور نقدی کی مجموعی مالیت میں سے قرض کی رقم منھا کرنے کے بعد بقیہ مالیت کا ڈھائی فیصد زکوٰۃ دینا لازم ہے، جبکہ سائل اگر اپنی مرضی وخوشی سے زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے بیوی کو پیسے دیدے تو شرعاً اس میں کوئی قباحت نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی فتاوی الھندیۃ: . وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهما،الخ (ج 1 ص 179 الباب الثالث فی ذکاۃ الذھب والفضۃ والعروض ط ماجدیہ)۔
وفیھا ایضاً: ومنها الملك التام وهو ما اجتمع فيه الملك واليد وأما إذا وجد الملك دون اليد كالصداق قبل القبض أو وجد اليد دون الملك كملك المكاتب والمديون لا تجب فيه الزكاة(الی قولہ) (ومنها الفراغ عن الدين) قال أصحابنا - رحمهم الله تعالى -: كل دين له مطالب من جهة العباد يمنع وجوب الزكاة سواء كان الدين للعباد كالقرض الخ (ج1 ص172 کتاب الزکاۃ ط ماجدیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد حمزہ منان عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 76639کی تصدیق کریں
0     582
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات