السلام علیکم !بعد از سلام مسنون عرض ہے کہ میں نے اپنے بڑے بھائی کو اپنا نومولود بچہ دیا، لیکن بچہ دینے کے بعد میری اہلیہ کچھ مسائل کی وجہ سے ذہنی اور جسمانی تکلیف کا شکار ہو گئی ہیں لیڈی ڈاکٹر اور سائیکلوجسٹ کا مشورہ ہے کہ بچہ کو چھ ماہ تک ماں کے پاس رہنے دیا جائے اور بچہ ماں کا دودھ پیئے،تاکہ بچہ بھی ٹھیک رہے اور ماں کی بھی صحت ٹھیک رہے، اب شرعی اعتبار سے اس مسئلے کے متعلق کیا حکم ہے ،کیا والدین اب بچے کو واپس مانگنے کا حق رکھتے ہیں؟ مجھے شریعت کی رو سے کیا کرنا چاہیے، براہ کرم مطلع فرما دیں۔
واضح ہو کہ بیٹا یا بیٹی کسی کو متبنیٰ بناکر دینے سے پرورش کرنے والا شخص اس بچے کا حقیقی والد یا مالک نہیں بنتا،بلکہ وہ صرف پرورش کرنے والا ہی رہتا ہے،اس لئے اس بچےکے حقیقی والدین جب چاہیں اس بچے کوو اپس لے سکتے ہیں ،لہذا صورت مسؤلہ میں سائل کا اپنے بڑے بھائی کو بچہ گود دینے کے بعد اب اہلیہ کی صحت کی خرابی کے پیش نظر بچہ واپس لینے اور کچھ عرصےتک ماں کی پرورش میں رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں،تاہم سائل کو چاہیئے کہ حکمت وبصیرت کے ساتھ اپنے بڑے بھائی کو حقیقی صورت حال سے آگاہ کرکے کوئی مناسب طرز عمل اختیار کرے،تاکہ بڑے بھائی کی دل آزاری اور ناراضگی بھی نہ ہو۔
کما فی احکام القرآن للجصاص في قوله تعالى : (ادعوھم لآبائھم هو اقسط عند الله فان لم تعلموا أباءھم فاخوانكم في الدين ومواليكم ) فيه اباحة اطلاق اسم الاخوة وحظر اطلاق الأبوة من غير جھة النسب ولذلك قال اصحابنا فيمن قال لعبده هو اخی لم یعتق اذا قال لم اراد به الاخوة من النسب لان ذلك يطلق فی الدین ولو قال هو ابني عتق لان اطلاقه ممنوع الامن جھة النسب وروى عن النبي صلى اللہ عليه وسلم انہ قال من ادعی الی غير ابيه وهو يعلم انه غير ابيه فالجنة علیہ حرام (ج 3 ، ص 354 ، ط : سھیل اکیڈمی )۔
و فی التفسير المظهري: فلا يثبت بالتبني شىء من احكام البنوة من الإرث و حرمة النكاح و غير ذلك اھ (ج7،ص284،ط: مكتبة الرشدية)۔
وفی الصحیح للبخاری: عن أبي ذر رضي الله عنه، أنه سمع النبي صلى الله عليه وسلم، يقول: 'ليس من رجل ادعى لغير أبيه وهو يعلمه إلا كفر، ومن ادعى قوما ليس له فيهم، فليتبوأ مقعده من النار(رقم الحدیث3508،ط: دار طوق النجاة)۔
والدین کا علم نہ ہونے کی صورت میں بچہ کی ولدیت کے خانہ میں کس کا نام لکھا جائے؟
یونیکوڈ لے پالک کے احکام 0