کیا فرماتے ہیں علماءِکرام ومفتیان ِعظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ افیون کاشت کرنا شرعاً کیسا ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ مطلقاً اس کا استعمال کیسا ہے ،شرعاً درست ہے یا نہیں؟ درست جواب سے مستفید فرمائیں۔
افیون، بھنگ اور چرس کی تجارت اور کاشت کو حضرت امام ابو یوسف اور امام محمد نے بالکل ناجائز قرار دیا ہے، خصوصاً جب کہ اس وقت ان کا جائز استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور حکومت نے ان کی تجارت اور کاشت پر پابندی بھی عائد کی ہے اور حکومت کی جائز پابندی پر عمل کرنا واجب ہے اور اس کی خلاف ورزی نا جائز اور گناہ ہے، اس لیے افیون اور چرس وغیرہ کی تجارت، اس کا استعمال اور کا شت شرعاً بھی جائز نہیں، اس سے مکمل طور پر اجتناب لازم ہے۔
البتہ اگر کوئی ماہر معالج کسی خاص مرض کی علاج کیلئے افیون کے استعمال کا مشورہ دےاور اس مرض کا کوئی اور مفید اور مؤثر علاج اور دوا موجود نہ ہو تو ایسی صورت میں اس کی استعمال کی شرعاً بھی اجازت ہو جاتی ہے، ورنہ بہر صورت اس کی استعمال سے احتراز لازم ہے ۔
ففي الدر المختار: (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. (6/ 454)۔
وفي حاشية ابن عابدين: (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها. ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية اھ (6/ 454)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: يحرم كل ما يزيل العقل من غير الأشربة المائعة كالبنج والحشيشة والأفيون، لما فيها من ضرر محقق، ولا ضرر ولا ضرار في الإسلام، (إلی قوله) ويحل القليل النافع من البنج وسائر المخدرات للتداوي ونحوه؛ لأن حرمته ليست لعينه، وإنما لضرره اھ (7/ 437)۔
رکشہ کمپنی والے کو ایڈوانس پیمنٹ دے کر ڈسکاؤنٹ حاصل کرنا- پلاٹوں کی تعیین اور فائلوں سے قبل ایڈوانس پیمنٹ دینے کی صورت میں قیمت میں رعایت کرنا
یونیکوڈ خرید و فروخت 1