ہم سب بھائی گھر میں رہتے ہیں ،اور کھانا پینا شریک ہے ،اور میں مستفتی مستحقِ زکوۃ ہوں ،میرے بڑے بھائی نے زکوۃ مجھے دی ،تو آیا ان کی یہ زکوۃ ادا ہو جائے گی یا نہیں؟
سائل کی ملکیت میں اگر ساڑھے سات تولہ سونا،یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی، مال تجارت یا ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو، اور وہ سید بھی نہ ہوتو ایسی صورت میں سائل کے بھائی کا سائل کو زکوۃدینا شرعاً جائز اور درست ہے ،اور اس سے زکوۃ دینے والے کی زکوۃ بھی بلاشبہ ادا ہو جائے گی ۔
کما في الفتاوى الهندية:فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى -(1/ 170)۔
وفی الدر المختار: أي مصرف الزكاة (الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ (باب المصرف،ج 2، ص 339، ط: سعید)۔