اگر ایک کمپنی جس کے نقد سرمایہ کا تناسب دس فیصد کے برابر ہے ،اور قرض نوے فیصد ہے، کیا میں اس کمپنی کے شیئرز کو خرید سکتا ہوں ؟ اگر نہیں تو پھر زیادہ سے زیادہ قرضہ کا تناسب کتنا ہے جو خریدنے کے اجازت ہو ؟
قرض کی خریداری تو کمی بیشی کے ساتھ جائز نہیں، چاہے کسی بھی تناسب کا ہو، جبکہ کسی کمپنی کے شیئرز خریدنا درجِ ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے :
۱: جس کمپنی کے شیئرز خریدے جارہے ہوں وہ کمپنی کسی حرام کا روبار میں ملوث نہ ہو ۔
۲: اس کمپنی کے تمام اثاثے اور املاک سیال اثاثوں یعنی نقد رقم کی شکل میں نہ ہو، بلکہ کمپنی نے کچھ فکس اثاثے حاصل کرلیے ہوں مثلا بلڈنگ بنائی ہو یا زمین خریدی ہو۔
۳: اگر کمپنی کا بنیادی کاروبار تو حلال ہو لیکن کمپنی سودی لین دین کرتی ہو۔ تو اس صورت میں اس کی سالانہ میٹنگ میں سودی لین دین کے خلاف آواز اٹھانا بھی لازم ہے۔
۴: یہ چوتھی شرط جو حقیقت میں تیسری شرط کا جزء ہے وہ یہ کہ جب سالانہ منافع تقسیم ہوں تو اس وقت شیئرز ہولڈر انکم اسٹیٹمنٹ کے ذریعے معلوم کرے، تو آمدنی کا جتنا فیصد حصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہو اس کو بغیر نیت ثواب کے صدقہ کر دے ۔
لہذا مذکورہ بالا تمام شرائط کی پابندی کے ساتھ اگر شیئرز وغیرہ کا کاروبار کیا جائے تو اس سے حاصل شدہ نفع بھی حلال ہوگا۔
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0