السلام علیکم! مجھے جنت البقیع کی خصوصیت بتائیں؟ اور اگر آپ کے پاس اختلاف امت اور صراط مستقیم کا PDF فائل موجود ہو تو مجھے ای میل کر دیں۔
جنت البقیع کے فضائل وخصوصیات سے متعلق چند احادیث مبارکہ ملاحظہ ہوں:
(۱) حدیث میں ہے کہ آپﷺ کے پاس جبرائیل امین یہ وحی لے کر آئے کہ آپ کے پروردگار یہ حکم کرتے ہیں کہ آپ بقیع تشریف لے جائیں اور اہلِ بقیع کیلیے استغفار کریں، چنانچہ آپﷺ وہاں تشریف لے گئے اور ان کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ ’’اے اللہ تو اہلِ بقیع کی مغفرت فرما‘‘۔
(۲) مصعب بن زبیرؓ کہتے ہیں کہ بقیع کے راستے سے مدینہ منّورہ آرہا تھا کہ میرے ساتھ ابن رأس جالوت بھی تھے جو اہلِ کتاب میں سے ہیں۔ جب ان کی نظر بقیع پر پڑی تو کہا یہی ہے، مصعبؓ نے دریافت کیا کہ کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ میں نے تورات میں پڑھاہے کہ ایک مقبرہ دو سنگستان کے درمیان ہے، جس کا نام ’’نحیل‘‘ ہے، اس میں سے ستر ہزار آدمی ایسے اُٹھیں گے، جن کے چہرے چودھویں کے چاند کی طرح چمکتے ہوں گے۔
(۳) حدیث میں ہے کہ جو شخص مدینہ منورہ میں مَرے اور بقیع میں دفن کیا جائے، وہ حضورﷺ کی شفاعت سے ممتاز ہوگا۔
(۴) حدیث میں ہے کہ سب سے پہلے سرور انبیاء علیہ السلام زمین سے اُٹھیں گے، آپ کے بعد ابوبکرؓ ان کے بعد حضرت عمرؓ اور ان کے بعد اہلِ بقیع پھر اہلِ مکہ۔
(۵) ایک حدیث میں ہے کہ دو مقبرے ایسے ہیں، جن کی روشنی آسمان پر ایسی ہے جیسی کہ زمین پر چاند اور سورج کی کی روشنی ہے، ایک تومقبرہ بقیع ہے اور دوسرا مقبرہ عسقلان۔
(۶) کعب احبارؓ سے روایت ہے کہ تورات میں آیا ہے ک بقیع کے مقبرے میں ملائکہ مقرر ہیں اور جس وقت یہ بھر جاتا ہے تو اس کو اُٹھا کر جنت میں جھاڑ دیتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب!