شیئرز کا کاروبار

ٹائنز کمپنی کا طریقہ کار اور اس میں کام کرنا اور اس کی آمدنی کا حکم

فتوی نمبر :
15633
| تاریخ :
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / شیئرز کا کاروبار

ٹائنز کمپنی کا طریقہ کار اور اس میں کام کرنا اور اس کی آمدنی کا حکم

السلام علیکم ! مفتی صاحب میرا سوال یہ ہےکہ چائنا کی ایک کمپنی ہے جس کا نام ہے ’’ٹائنز ‘‘ اور یہ تقریباً ۱۲۰ ممالک میں رجسٹر ہے، پاکستان میں بھی اس کی بہت شاخیں ہیں، یہ کمپنی اپنی مختلف اشیاء سیل کرتی ہے اس کمپنی کا ضابطہ ہے کہ مجھے اس کمپنی میں پہلے اپنی رجسٹریشن کروانی ہوگی ، اس کے بعد مجھے میرا رجسٹریشن کوڈ دیا جائیگا، پھر میں وہاں سے چیزیں خریدونگا اور جب میری 35 ہزار کی خریداری مکمل ہو جائیگی تو میں تھری سٹار بن جاونگا اور پھر مجھے اپنی رجسٹریشن کوڈ پر تین آدمی اس کمپنی میں رجسٹر کروانے ہونگے، پھر جب وہ تین آدمی تھری سٹار بن جائینگے تو میں فور سٹار بن جاؤنگا اور مجھے ان تینوں آرمیوں کی خریدی ہوئی چیزوں کا منافع دیا جائیگا اور پھر جب وہ تین آدمی اپنی کوڈ پر مزید تین آدمی اس کمپنی میں رجسٹر کرو اننگے اور وہ تھری سٹار بن جائے تو میں فائیو سٹار بن جاؤنگا اس طرح آدمی بڑھتے جائینگے اور میرا گریڈ بڑھتا جائیگا اور مجھے ان سب کا منافع ملتا رہیگا، یعنی فرض کرے کہ میں فائیو سٹار ہوں اور میری بنیاد پر تین، فور سٹار ہیں اور جب یہ تین فور سٹار مزید آگے تین تین آدمیوں کو اس کمپنی میں رجسٹرڈ کروائینگے اور جب وہ خریداری کرنے کر دینگے تو ان کا منافع میری فور سٹار والوں کو بھی ملیگا اور مجھے بھی فائیو سٹار کو بھی ملےگا، اور میں جس کے کوڈ پر رجسٹرڈ ہوا ہوں ، اسے بھی ملیگا یعنی سکس سٹار کو، اب میری مرضی ہے کہ میں اپنی کوڈ پر تین سے زیادہ مزید آدمی رجسٹر کراؤں یا نہیں؟ لیکن جتنے آدمی میری کوڈ پر بڑھینگے مجھے ان کا منافع ملتا رہےگا ، محترم یاد رہے کہ دیا گیا منافع فیصد کے حساب سے متعین ہوتا ہے ۔
مفتی صاحب ذرا غور کیجیے ، جس طرح بینک میں سیونگ اکاونٹ میں پیسے جمع کروا دیئے جاتے ہیں اور پھر ان پیسوں پر ہر مہینے منافع یعنی سود لگتا ہے اور پھر سود پر سود لگتا رہتا ہے اور اس طرح سود بڑھتا جاتا ہے اسی طرح اس کمپنی میں بھی 35 ہزار روپے کی خریداری کے بعد تین آدمی اپنی کوڈ پر رجسٹر کروانے کے بعد منافع آنا شروع ہو جاتا ہے اور پھر آدمی بڑھتے جاتے ہیں اور ساتھ ہی منافع بڑھتا جاتا ہے یعنی جتنے آدمی بڑھینگے اتنا منافع بڑےگا ، اب مجھے بتائیے کہ (۱) ٹائنز کمپنی کا اس طرح سے دیا گیا منافع سود ہے یا نہیں ؟ (۲) اس طرح دیا گیا منافع حلال ہے یا حرام ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں تحریر کردہ ’’ ٹائنز کمپنی ‘‘ کے طریقہ کار پر غور کیا گیا، آج کل اس نوعیت کا کاروبار کرنے والی بہت سی کمپنیاں آئی ہیں جو کم قیمت کی چیز مہنگے داموں فروخت کرتی ہیں اور ساتھ آگے ممبر بنا کر اس پر کمیشن دینے کی پیشکش کرتی ہیں، لوگ کمیشن کے لالچ میں آکر کم قیمت کی چیز مہنگے داموں میں خرید لیتے ہیں جو شرعا قمار کی ہی ایک شکل ہے۔
چنانچہ ’’ ٹائنز کمپنی‘‘ کی مصنوعات اگر عام بازاری قیمت سے زیادہ پر فروخت کی جاتی ہیں تو یہ کاروبار بھی ناجائز ہے، اور اس کے معلوم کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اگر کمپنی کی مصنوعات عام مارکیٹ میں نہیں ہیں تو اس چیز کو عام مارکیٹ میں فروخت کرے لوگ جس قیمت پر خریدنے کو تیار ہوں وہ اس کی بازاری قیمت ہے، اب اگر کمپنی کی قیمت پر لوگ خرید نے کے لیے تیار ہیں تو اس کی قیمت بازاری قیمت کے برابر ہے اور اگر اس قیمت پر خرید نے کے لیے تیار نہیں ہیں تو یہ علامت ہے کہ اس کی قیمت بازاری قیمت سے زیادہ ہے اور زائد قیمت داؤ پر لگی ہوئی ہے کہ اگر یہ شخص ممبر بنانے میں کامیاب ہو گیا تو ٹھیک ہے اور اگر ممبر بنانے میں کامیاب نہ ہو سکا تو اس صورت میں زائد رقم ڈوب جائے گی۔
لیکن اگر کمپنی کی مصنوعات کی قیمتیں عام بازاری قیمت کے برابر ہوں یا معمولی سا فرق ہو تو بھی اس کمپنی کے طریقہ کار میں درج ذیل خرابیاں پائی جاتی ہیں:
۱۔ یہ جو بات کہی جاتی ہے کہ ’’کمپنی کا اصل مقصد کمپنی کی مصنوعات کو فروخت کرنا ہی ہوتا ہے یہ محض حیلہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ اگر کوئی شخص بغیر ممبر بنے اس کمپنی کی مصنوعات کو خریدنا چاہے اور اس زنجیر میں شامل نہ ہو تو کمپنی اس کو یہ مصنوعات فروخت نہیں کرتی۔
۔ کسی شخص کا کمپنی کے طریقہ کار میں کمیشن کا حقدار بننے کے لیے دونوں طرف ممبر بنانا شرط ہے ۔ چنانچہ اگر کوئی شخص ایک طرف ممبر بنائے اور دوسری طرف نہ بنائے یا مطلوبہ تعداد سے کم بنائے تو اس کو اس کی محنت کا صلہ نہیں ملتا ، شرعی اعتبار سے یہ شرط لگانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں ایک تو کسی شخص کی محنت بے کار جاتی ہے اور اس کا صلہ اس کو کچھ نہیں ملتا ۔
۳۔ دوسرا یہ کہ اس صورت میں اس کو ملنے والی کمیشن وجود وعدم کے درمیان معلق ہے، گویا اس طرح معاملہ ہوا کہ اگر دونوں طرف ممبر بنائے تو اتنا کمیشن ملے گا اور اگر اس سے کم بنائے تو کچھ بھی کمیشن نہیں ملے گا، اور شرعا یہ درست نہیں ہے۔ہاں اگر یہ ہوتا کہ ایک طرف ممبر بنانے پر کمیشن کم ملے گا اور مطلوبہ تعداد کے مطابق بنانے پر مکمل کمیشن ملے گا تو اس کی شرعاً گنجائش ہے۔
لہذا اس موجودہ طریقہ کار میں جو خرابیاں ہیں ان کے ساتھ اس کاروبار میں شرکت کرنا جائز نہیں، اس سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔جو لوگ اس طریقہ کار کے مطابق اس کا روبار میں شامل ہیں، ان کو چاہیے کہ اس کا روبار کو چھوڑ دیں اور جو غلطی ہوئی اس پر توبہ و استغفار کریں اور اس کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی کو بھی استعمال کرنے سے اجتناب کریں۔


مأخَذُ الفَتوی

كما في الدر المختار: (و) اعلم أنه (لا رد بغبن فاحش) هو ما لا يدخل تحت تقويم المقومين (في ظاهر الرواية) وبه أفتى بعضهم مطلقا كما في القنية ثم رقم وقال (ويفتى بالرد) رفقا بالناس اھ (5/ 142)
و في حاشية ابن عابدين: وذلك كما لو وقع البيع بعشرة مثلا، ثم إن بعض المقومين يقول إنه يساوي خمسة، وبعضهم ستة وبعضهم سبعة فهذا غبن فاحش؛ لأنه لم يدخل تحت تقويم أحد اھ (5/ 143)
و في الدر المختار: (و) لا (بیع بشرط) (إلی قوله) (لا يقتضيه العقد ولا يلائمه وفيه نفع لأحدهما أو) فيه نفع (لمبيع) اھ (5/ 85)
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وكل أنواع الكسب إلخ) أي أنواعه المباحة، بخلاف الكسب بالربا والعقود الفاسدة ونحو ذلك اھ (6/ 462)
قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)
وفى حاشية ابن عابدين: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)
و في البحر الرائق: لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة وينقص أخرى وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من القمارين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والنقصان في كل واحد منهما فصار ذلك قمارا وهو حرام بالنص اھ (8/ 554)


واللہ تعالی اعلم بالصواب
تاجدار عالم نثار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 15633کی تصدیق کریں
0     13
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • فیوچر ٹریڈنگ (مستقبل کے سودوں)کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کیا شئیر کے خرید وفروخت میں سود کے خلاف آواز اٹھانا ضروری ہے ؟

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شئیرز ملکیت میں آنےسے پہلے فروخت کرنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • شئیر ز کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • شئیرز سے کمائے ہوئے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • بروکر کے لئےشیئرز کی خرید و فروخت کی پیشکش کرنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کا کاروبار اور اس سے ملنے والے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 3
  • شیئرز (حصص)کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں نوکری کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں شیئرز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • بینک اور دیگر کمپنیوں کے شیئرز خریدنا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت کرنے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خریدوفروخت اور کاروبار کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ سے شیئرز کی خرید و فروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • ٹائنز کمپنی کا طریقہ کار اور اس میں کام کرنا اور اس کی آمدنی کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک مارکیٹ میں شیئرز کی خرید و فروخت

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے شیئرز کی خرید وفروخت کاحکم اور اس کی شرائط

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 1
  • حلال مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید و فروخت میں (اسٹاک بروکر) کو استعمال کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • سٹاک مارکیٹ کی شیئرز خریدنے کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • اسٹاک ایکسچینج میں ’’مری بریوزی‘‘ کے شیئرز کا کاروبار کرنے کاحکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
  • شیئرز کی خرید وفروخت کا حکم

    یونیکوڈ   شیئرز کا کاروبار 0
Related Topics متعلقه موضوعات