میرے بھائی نے خوشی میں آکر اپنی بیوی کو ایک دفعہ طلاق دی , اسلام میں اس بات کا کیا حکم ہے؟
سائل کے بھائی نے اگر اپنی بیوی کو ایک ہی بار صریح الفاظ میں طلاق دی ہے تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ وہ عدت کے اندر رجوع کر سکتا ہے اس رجوع کے بعد آئندہ کیلئے اس کو صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا اسے چاہیئے کہ آئندہ طلاق کے الفاظ بولنے سے احتراز کرے۔
في الدر:ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل ولو تقديراً (3/244)۔
وفي الفتاوى التاتارخانية :في شرح الطحاوي الاصل أن الطلاق إنما يقع لوجود لفظ الايقاع من مخاطب في ملكه إذا طلق المخاطب المكلف امرأته وقع الطلاق کالعاقل البالغ (3/255)۔
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1