بھیک مانگنا

پیشہ ور بھکاری کوپیسے دینے کاحکم

فتوی نمبر :
22668
| تاریخ :
معاشرت زندگی / معاشرتی برائیاں / بھیک مانگنا

پیشہ ور بھکاری کوپیسے دینے کاحکم

دوکاندار کی حیثیت سے پیشہ ور گداگر کو کچھ دینا صحیح ہے یا غلط؟ اگر اس کی وجہ سے حق داروں کو نہ ملے تو ہم گناہ گار تو نہ ہونگے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

مانگنے والے کا حق ہے، اس لیے بغیر کسی بد گمانی کے محض اللہ کی رضا کے لیے دے دینا چاہیے ، ہاں اگر کسی خاص شخص سے متعلق معلوم ہو کہ اس نے کسب معاش پر قدرت کے باوجود بلا ضرورت مانگنے ہی کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے تو چونکہ اس کا مانگنا حرام ہے اور اس کو دینا گناہ اور معصیت کے کام میں اعانت ہے جو بجائے خود گناہ ہے جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في الدر المختار: (ولا) يحل أن (يسأل) من القوت (من له قوت يومه) بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحاله لإعانته على المحرم اھ (2/ 354)
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله ويأثم معطيه إلخ) قال الأكمل في شرح المشارق. وأما الدفع إلى مثل هذا السائل عالما بحاله فحكمه في القياس الإثم به؛ لأنه إعانة على الحرام، لكنه يجعل هبة وبالهبة للغني أو لمن لا يكون محتاجا إليه لا يكون آثما اهـ. أي؛ لأن الصدقة على الغني هبة كما أن الهبة للفقير صدقة اھ (2/ 355)
و في الفتاوى الهندية: لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي اھ (1/ 189) واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 22668کی تصدیق کریں
0     18
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • پیشہ ور بھکاری کوپیسے دینے کاحکم

    یونیکوڈ   بھیک مانگنا 0
Related Topics متعلقه موضوعات