کسی قوم کی سزا کے طور پر " بندر " بنائے جانے کی بات میں کس حد تک صداقت ہے؟ کیا حقیقت میں کوئی ایسی قوم گذری ہے جس کو سزا کے طور پر بندر بنا دیا گیا تھا ؟
جی ہاں! قرآن کریم کے سورۃ بقرہ آیت نمبر ۶۵ میں اس کا تذکرہ ملتا ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو، اللہ تعالیٰ نے بطور سزا کے شکلیں مسخ کر کے بندر بنا دیا تھا ،( جو تین دن تک اسی حالت میں رہے پھر سب مر گئے۔)
قال الله تعالیٰ : {وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِينَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِي السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ (65) فَجَعَلْنَاهَا نَكَالًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ } [البقرة: 65، 66] والله اعلم بالصواب