آپ کا میسج ملا جو میرے سوال کا جواب تھا پر ایک گذارش ہے کہ ایک تو یہ جواب عربی میں تھا اور دوسرا میں نے تفصیل سے جواب مانگا تھا پلیز آپ مجھ کو تفصیل سے جواب دیں اردو میں اور قرآن، حدیث، تاریخ اور صحاح کی کتابوں سے حوالجات دے کر جواب سے نوازیں ۔ اس زحمت کے لیے معذرت کرتا ہوں ۔
جی ہاں! احادیث صحیحہ صریحہ اور کتب تاریخ میں یہ بات صراحتاً مذکور ہےکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے پہلے تینوں خلفاء کی بیعت کی تھی۔ بلکہ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اپنی زبانی بیعت کرنا منقول ہے۔ چنانچہ درج ذیل عربی حوالہ جات با ترجمہ ملاحظہ ہوں ۔
ترجمہ: جیسا کہ تکملہ فتح الملہم (شرح مسلم ) میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے قصہ سقیفہ منقول ہے۔ اور اس کے آخر میں یہ آتا ہے کہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور لوگوں سے کہا کہ یہ تمہارے ساتھی ہیں پس تم سب ان سے بیعت کر لو، پھر ان کے پاس سب لوگ مسجد میں گئے جب ابو بکر رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف فرما ہوئے تو لوگوں کی طرف دیکھا اور حضرت علی رضی اللہ کو نہ پایا، ان کے بارے میں پوچھا تو کچھ انصاری لوگ کھڑے ہوئے اور ان کو لے آئے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد کیا آپ مسلمانوں کی لاٹھی چیرنا چاہتے ہیں (یعنی تفریق ڈالنا چاہتے ہیں) تو حضرت علیؓ فرمایا اے اللہ کے رسول کے خلیفہ ایسا کوئی مسئلہ نہیں۔ پھر انہوں نے حضرت ابوبکرؓ کی بیعت کر لی "۔(۳/ ۱۰۶)۔
تاریخ اسلام ذہبی میں ہے حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں فرمایا کہ جب علی ؓ بصرہ تشریف لائے تو ابن الكواء و قيس بن عباد ان کے پاس گئے اور ان کو کہا گیا آپ ہمیں اس طرز عمل کے بارے میں نہیں بتائینگے جو آپ نے اختیار فرمایا ہے ؟ جو کچھ آپ نے اس سلسلہ میں سنا آپ ہمارے نزدیک معتمد اور مامون ہیں تو حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ نبی علیہ الصلاة و السلام نہ تو قتل کئے گئے اور نہ ہی اچانک حضور کی وفات ہوئی، وہ کئی دن اور رات بیمار رہے ، ان کے پاس مؤذن آتا اور نماز کی اطلاع کرتا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکرؓ کو حکم فرماتے تو ابو بکر ؓ نماز پڑھا دیتے، پس جب اللہ تعالی نے اپنے نبی علیہ السلام کو اٹھا لیا (الی قولہ) تو ہم نے ابو بکر کی بیعت کی اور وہ اسی بات کے اہل تھے ( ان کی بیعت کی جائے) (الی قولہ) پھر جب ان کو بھی اٹھا لیا گیا تو حضرت عمر کو خلیفہ بنایا گیا۔ پس ہم نے ان کی بیعت کی (الی قولہ) پھر جب ان کو بھی اٹھا لیا گیا ۔ تو ہم نے بیعت کی حضرت عثمان کی اور ان کی بیعت کا حق ادا کیا اور ان کی خوب اطاعت کی ۔ (3/ 641)
تاریخ اسلام ذہبی میں یہ بھی مذکور ہے کہ : سعید بن عمر رضی اللہ نہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا کہ نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے ہمارے امارت اور خلافت کے بارے میں فرمایا لیکن ایک رائے پہ ہم نے فیصلہ کیا تو ابوبکرؓ کو خلیفہ بنا دیا گیا تو انہوں نے امر خلافت نبھایا اور اس میں درست راہ پر چلے، پھر عمرؓ کو خلیفہ بنایا گیا تو انہوں نے بھی امر خلافت نبھایا اور اس میں درست راہ پر چلے۔ (۳/ ۶۳۹)
و في التكملة : عن ابي سعيد الخدرى رضى الله عنه قصة السقيفة و في آخرها ثم أخذ زيد بن ثابت بيد أبى بكر فقال هذا صاحبكم فبايعوه ثم انطلقوا فلما قعد أبو بكر رضى الله عنه على المنبر نظر فى وجوه القوم فلم ير عليا رضى الله عنه فسأل عنه فقام ناس من الأنصار فأتوا به فقال أبو بكر رضى الله عنه : ابن عم رسول الله -صلى الله عليه وسلم- وختنه أردت أن تشق عصا المسلمين. فقال : لا تثريب يا خليفة رسول الله فبايعه اھ (۳/ ۱۰۶)۔
و في تاريخ الإسلام للإمام الذهبي: عن الحسن قال: لما قدم علي البصرة قام إليه ابن الكواء، وقيس بن عباد فقالا له: ألا تخبرنا عن مسيرك هذا الذي سرت فيه، (إلی قوله) فحدثنا فأنت الموثوق المأمون على ما سمعت، فقال، (إلی قوله) ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يقتل قتلاً، ولم يمت فجأة، مكث في مرضه أياماً وليالي، يأتيه المؤذن فيؤذنه بالصلاة، فيأمر أبا بكر فيصلي بالناس، وهو يرى مكاني، ثم يأتيه المؤذن فيؤذنه بالصلاة، فيأمر أبا بكر فيصلي بالناس، (إلی قوله) فلما قبض الله نبيه، (إلی قوله) فبايعنا أبا بكر، وكان لذلك أهلاً، لم يختلف عليه منا اثنان، ولم يشهد بعضنا على بعض، ولم نقطع منه البراءة، فأديت إلى أبي بكر حقه، وعرفت له طاعته اھ (3/ 640، 641)
وفيه أيضا : عن سعيد بن عمرو، قال: خطبنا علي فقال: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يعهد إلينا في الإمارة شيئاً، ولكن رأي، رأيناه، فاستخلف أبو بكر، فقام واستقام، ثم استخلف عمر، فقام واستقام (3/ 639)
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1