میں نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی ہیں، کیا ہم ساتھ رہ سکتے ہیں ؟
سائل نے اگر واقعہ اپنی بیوی کو دو طلاقیں دی ہوں تو اس سے شرعا بھی سائل کی بیوی پر دو ہی طلاق رجعی واقع ہو چکی ہیں جن کاحکم یہ ہے کہ سائل عدت کے اندررجوع کرنا چاہے تو کر سکتا ہے مگر آئندہ سائل کو فقط ایک طلاق دینے کا اختیار رہے گااگر وہ ایک طلاق بھی دیدی تو اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو جائےگی اس لئے سائل کو آئندہ طلاق کے متعلق خوب احتیاط کی ضرورت ہے۔
کمافی ردالمحتار: (تحت قوله) قلت: ولذا قال في البدائع: أما الطلاق الرجعي فالحكم الأصلي له نقصان العدد، فأما زوال الملك وحل الوطء فليس بحكم أصلي له لازم حتى لا يثبت للحال بل بعد انقضاء العدة، وهذا عندنا. وعند الشافعي زوال حل الوطء اھ(3/227)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1