آج کل لوگ کسی کی چوری ہو جائے تو کسی عامل پیر کے پاس جاکر عمل کرواتے ہیں، بعض اوقات عامل عمل کر کے ایک بچے کو شیشے میں چور دکھاتا ہے ، اور بعض دفعہ ہاتھ کے انگوٹھے کے ناخن میں ، آیا یہ عمل حقیقت پر مبنی ہے؟ اگر حقیقت ہے تو کروانا جائز ہے؟ راہ نمائی فرمائیں۔
مذکور عمل کے ذریعہ چوری کی ذمہ داری کسی شخص پر ڈالنا درست نہیں، اور نہ ہی یہ عمل کوئی شرعی حجت ہے ، تاہم اگر شرعی شہادت یا خود چور کے اقرار سے چوری ثابت ہو جائے تو مسروقہ چیز کا مالک کو واپس کرنا اس شخص کی ذمہ داری ہے۔
کما فى حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله: والكهانة) وهي تعاطي الخبر عن الكائنات في المستقبل وادعاء معرفة الأسرار. قال في نهاية الحديث: وقد كان في العرب كهنة كشق وسطيح، فمنهم من كان يزعم أن له تابعا يلقي إليه الأخبار عن الكائنات، ومنهم أنه يعرف الأمور بمقدمات يستدل بها على موافقها من كلام من يسأله أو حاله أو فعله وهذا يخصونه باسم العراف كالمدعي معرفة المسروق ونحوه، وحديث " من أتى كاهنا " يشمل العراف والمنجم. والعرب تسمي كل من يتعاطى علما دقيقا كاهنا، ومنهم من يسمي المنجم والطبيب كاهنا اهـ (1/ 45) والله اعلم بالصواب
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0