اگر کوئی مسلم اسلام (نعوذباللہ) چھوڑ کر کوئی دوسرا مذہب اختیار کرتا ہے تو کیا وہ واجب القتل ہے؟ اگر وہ اسلام چھوڑنے کے بعد اسلام کے خلاف کوئی سازش وغیرہ نہیں کرتا تو تب بھی وہ واجب القتل ہے؟ مہربانی فرماکر تفصیل سے رہنمائی فرمائیں۔
جو مسلمان (نعوذباللہ) اسلام چھوڑ کر کسی غیر مذہب کو اختیار کرلیتا ہے تو وہ مرتد اور دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے ایسے شخص کا حکم یہ ہے کہ اسلام سے متعلق اس کے جو شبہات ہیں وہ دور کئے جائیں گے، اگر اس کے باوجود بھی وہ بدستور کفر پر ہی مُصر رہے خواہ وہ اسلام چھوڑنے کے بعد اسلام کے خلاف کوئی سازش کرے یا نہ کرے، اسلام کے باغی ہونے کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے گا،مگر یہ قتل کرنا حاکمِ وقت کا کام ہے عام عوام کا نہیں، اس لئے ایسی صورت حال میں عام عوام کو حکومت وقت اور حاکم سے رجوع کرنا چاہئے، از خود کوئی فیصلہ نہ کرے۔
وعن ابن عباسؓ: قال: قال رسول اللہ ﷺ من بدل دینہ فاقتلوہ۔ (رواہ البخاری)
واذا ارتد المسلم عن الاسلام والعیاذ باللہ۔ عرض علیہ الاسلام فان کانت لہ شبہۃ کشفت عنہ ویحبس ثلاثۃ ایام فان اسلم والاقتل۔ (ہدایہ اولین: ج۱، ص۸۵) واللہ اعلم بالصواب