محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم!
(۱): میرا سوال پرائز بانڈ کے متعلق ہے، آیا یہ شرعاً جائز ہے کہ نہیں؟ مدلل جواب ارسال کریں۔
(۲) دوسرا سوال کرنسی کے بارے میں ہے، یعنی بعض لوگ سو روپے کے نئے نوٹ کے بدلے 125 روپے لیتے ہیں، آیا یہ جائز ہے کہ نہیں؟
پہلے تو اس بات کو ذہن نشین کر لینا چاہیئے کہ انعامی بانڈز (پرائز بانڈز) کی میں کسی چیز کی خرید و فروخت نہیں ہوتی، بلکہ اس کے تحت جو رقم دی جاتی ہے در حقیقت وہ رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے اور اس چیز پر جو نفع دیا جاتا ہے وہ سود ہوتا ہے۔ اور اس طریقہ کار کی پوری تفصیل یہ ہے کہ حکومت ہر پرائز بانڈ والے ہر شخص سے اس کے دیے ہوئے قرض پر سود دینے کا معاہدہ تو نہیں کرتی، لیکن انعامی بانڈز حاصل کرنے والے تمام افراد سے بحیثیت مجموعی یہ بات بہر حال طے ہوتی ہے کہ وہ انہیں انعام ضرور تقسیم کریگی، اگر وہ ایسا نہ کرے تو انعامی بانڈز رکھنے والا ہر فرد انعام تقسیم کرنے کا مطالبہ کر سکتا ہے ۔ بلکہ وہ بذریعہ عدالت بھی حکومت کو انعام کی تقسیم پر مجبور کر سکتے ہیں، چنانچہ مذکورہ بالا تفصیل سے پرائز بانڈ کی حقیقت نمایاں ہو کر سامنے آگئی ہے کہ پرائز بانڈ کی رقم حکومت پر قرض ہوتی ہے جس کے لئے کوئی مدت مقرر نہیں جب چاہے لے سکتے ہیں ۔
اب یہ بھی سمجھ لیجئے کہ بانڈز رکھنے والوں کو بصورتِ انعام جو کچھ ملتا ہے وہ اسی قرض کی بناء پر ملتا ہے جو بحیثیت مجموعی جملہ انعامی بانڈز رکھنے والوں سے مشروط ہے اور قرض پر ہر قسم کا مشروط نفع احادیث اور فقہ کی روشنی میں بلاشبہ ناجائز اور سود ہے اور اس کو وصول کرنا اور اپنے استعمال میں لانا ناجائز اور حرام ہے۔
جتنے روپے کا پرائز بانڈز ہے اسی قدر رقم واپس لے سکتے ہیں زائد نہیں۔ اگر کسی نے غلطی سے پرائز بانڈز پر ملنے والی انعامی رقم حاصل کر لی ہو تو چونکہ وہ سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے ( اور مال حرام کا حکم یہ ہے کہ جب اس کا مالک معلوم ہو تو اسے پہنچانا ضروری ہے ۔ اگر اصل مالک معلوم نہ ہو یا اس تک پہنچانا متعذر ہو تو اسے اصل مالک کی طرف سے بغیر بتائے بلانیتِ ثواب صدقہ کرنا واجب ہے) لہذا وہ رقم بلانیتِ ثواب صدقہ کر دی جائے۔
۲:سو روپے کے نئے نوٹ کے عوض ایک سو پچیس روپے لینا سود ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے، لہٰذا مذکور طرزِ عمل سے احتراز واجب ہے۔
ففي الدر المختار: و في الأشباه كل قرض جر نفعا حرام فكره للمرتهن سكنى المرهونة بإذن الراهن. (5/ 166)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة و في الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به (5/ 166)۔
ففی مشكاة المصابيح: وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد» . رواه مسلم اھ (2/ 855)۔
و في الدر المختار: (وعلته) أي علة تحريم الزيادة (القدر)المعهود بكيل أو وزن (مع الجنس فإن وجدا حرم الفضل) (5/ 171)-
انعامی بانڈ (پرائز بانڈز) کی اسکیم کے تحت ملنے والے انعام کو اپنی ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ پرائز بانڈ 0