کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس شخص کے بارے میں کہ جو امام کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہو اور اس کی ایک رکعت چھوٹ گئی ہو، جب امام نے سلام پھیرا تو اُس نے بھی نسیاناً سلام پھیر دیا اور اپنے مسبوق ہونے کو بھول گیا، اپنے سر پھیرنے اور السلام علیکم ورحمۃ اللہ کہنے کے بعد اُسے یہ احساس ہوا کہ میری ایک رکعت باقی ہے۔ تو کیا اس کی نماز ہوگی یا نہیں؟ اب یہ نماز کس طرح پوری کرے؟ براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں اور اجر حاصل کریں اللہ آپ پر رحم فرمائیں۔
اگر مسبوق کو امام کے ساتھ سلام پھیرنے کے بعد یاد آیا کہ اس کی ایک رکعت باقی ہے تو اب وہ اپنی باقی رکعت پوری کر کے آخر میں سجدہ سہو کر لے تو اُس کی نماز درست ہو جائےگی۔
ففی حاشية ابن عابدين: (قوله والمسبوق يسجد مع إمامه) (إلی قوله) فإذا سلم الإمام قام إلى القضاء، فإن سلم فإن كان عامدا فسدت وإلا لا، ولا سجود عليه إن سلم سهوا قبل الإمام أو معه؛ وإن سلم بعده لزمه لكونه منفردا حينئذ بحر، وأراد بالمعية المقارنة وهو نادر الوقوع كما في شرح المنية. اھ (2/ 82)
وفی الفتاوى الهندية: ولو سلم المسبوق مع الإمام ينظر إن كان ذاكرا لما عليه من القضاء فسدت صلاته وإن كان ساهيا لما عليه من القضاء لا تفسد صلاته؛ لأنه سلام الساهي فلا يخرجه عن حرمة الصلاة. كذا في شرح الطحاوي في باب سجود السهو. اھ (1/ 98)
وفی بدائع الصنائع: والأصل أن السلام العمد يوجب الخروج عن الصلاة إلا سلام من عليه السهو، وسلام السهو لا يوجب الخروج عن الصلاة اھ (۱/ ۱۶۸)
وفی الدر المختار: ولو سلم ساهيا إن بعد إمامه لزمه السهو وإلا لا. (1/ 599)
وفی حاشية ابن عابدين: (قوله ولو سلم ساهيا) قيد به لأنه لو سلم مع الإمام على ظن أنه - عليه السلام - معه فهو سلام عمد فتفسد كما في البحر عن الظهيرية (قوله لزمه السهو) لأنه منفرد في هذه الحالة ح. (1/ 599)
سجدہ سہو لازم ہونے کی صورت میں بھول کر سلام پھیرنا اور یاد آنے پر فوراً سجدہ کرلینا
یونیکوڈ سجدہ سھو 1اکیلے نمازی کا قعدۂ اولی میں ، اور مسبوق کا قعدۂ اخیرہ میں درود شریف پڑھ لینے کا حکم
یونیکوڈ سجدہ سھو 2ایک رکعت کا رہا ہوا سجدہ, دوسری رکعت کے سجدوں کے ساتھ قضا کرتے ہوئے تین سجدے کرنا
یونیکوڈ سجدہ سھو 0فرض نماز کی آخری رکعتوں میں فاتحہ کے بعد سورت ملانےاور قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنے سے سجدہ سہو لازم ہوگا ؟
یونیکوڈ سجدہ سھو 0