السلام علیکم!
میں جاب کرتا ہوں، جہاں کمپنی کا اصول ہے کہ ہر 3 ماہ بعد ملازم کو جہاز میں چھٹی کے دوران آنے جانے کا کرایہ دیتی ہے، لیکن تقریباً تمام ملازمین گاڑی میں سفر کر کے جہاز کا جعلی ٹکٹ بنا کر کلیم کرتے ہیں ، میری نظر میں یہ ناجائز ہے تو میں گاڑی کے پیسے کلیم کرتا ہوں، لیکن چھٹی کا نظام اس سے توڑا الگ ہے، باس کی رضامندی سے جس کی وجہ سے جو تاریخ میں لکھتا ہوں فارم پر ان دنوں میں میں نے سفر نہیں کیا ہوتا توکیا یہ رقم حلال ہے یا حرام ؟
اگر کمپنی کا ضابطہ اجازت دیتا ہو تو سائل کے لئے ٹکٹ کی رقم لینا جائز ہے۔
لما في التنزيل العزيز {يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا } [النساء: 29]۔
و في صحيح البخاري: وقال النبي صلى الله عليه وسلم: «المسلمون عند شروطهم» اھ (3/ 92)۔
و في صحيح مسلم : 164 - (101) حدثنا قتيبة بن سعيد، حدثنا يعقوب وهو ابن عبد الرحمن القاري ح، وحدثنا أبو الأحوص محمد بن حيان، حدثنا ابن أبي حازم، كلاهما عن سهيل بن أبي صالح، عن أبيه، عن أبي هريرة: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا» (1/ 99)۔
و في مشكاة المصابيح: وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى اھ (2/ 889)۔
کمپنی کی طرف سےجہاز کے ٹکٹ کی مد میں ملنے والی رقم بچا کر ذاتی استعمال میں لانا
یونیکوڈ اجرت و کرایہ داری 0