بیماری کے لیے تعویز وغیرہ لٹکانا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ ہر وہ تعویذ جس میں کفریہ و شرکیہ کلمات نہ ہوں، اور نہ ہی اس کے کلمات غیر معلوم المعنی ہوں، بلکہ قرآنی آیات اور ماثور کلمات پر مشتمل اور جائز مقصد کیلئے بنایا گیا ہو، تو ایسا تعویذ شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فى رد المحتار: ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فیها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث فی عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به اھ ۔ (6/ 363)
وفيه ایضاً: وفي المجتبى: اختلف فی الاستشفاء بالقرآن بأن يقرأ على المريض أو الملدوغ الفاتحة، أو يكتب فی ورق ويعلق عليه أوفي طست ويغسل ويسقى. وعن "النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان يعوذ نفسه" قال - رضي الله عنه -: وعلى الجواز عمل الناس اليوم، وبه وردت الآثار ولا بأس بأن يشد الجنب والحائض التعاويذ على العضد إذا كانت ملفوفة اھ۔ (6/ 364)
ماہ محرم یا بارہ ربیع الأوّل کو چندہ اکٹھا کر کے اس کی شیرینی وغیرہ تقسیم کرنا
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0قوالی سسننے کا حکم -دورانِ سفر گاڑی میں گانے چل رہے ہوں تو کیا کیا جاۓ
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0اذان میں "علی وصی اللہ ، خلیفۃ بلا فصل"کا اضافہ- اہلِ تشیع کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانے کا حکم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0مروّجہ سالانہ باجماعت قضاءِ عمری-عیدین یا فرائض کے بعد مصافحہ و معانقہ-جمعرات اور 23 رمضان کو مخصوص سورتوں کا ختم
یونیکوڈ تعویذ و روحانی علاج 0