اگر ایک شخص اپنی بیوی کو ایک طلاق دے پھر رجوع کرےاور کافی عرصہ بعد پھر دے تو کیا یہ پہلی طلاق تصور ہو گی یا دوسری ؟ یہی بندہ اگر دو طلاق دے پھر کافی عرصہ جیسے دس یا بارہ سال بعد پھر طلاق کہے تو پہلی والی طلاقیں منسوخ ہو نگی یا نکاح ٹوٹ جائیگا ؟ سادہ الفاظ میں کیا طلاق میں وقت کی قید ہے،اگرپہلی یا دوسری طلاق کے بعد میاں بیوی خوشی سے رہیں تو کیا کسی موقع پرشوہرکےطلاق کہنے سے نکاح ختم ؟ شوہر کوئی دس،بارہ سال پہلے دو طلاقیں دے چکا تھا ہو جائیگا ؟ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں؟
واضح ہو کہ ایک یا دور جعی طلاق دینے کے بعد شوہر کا عدت میں اپنی بیوی سے رجوع کرنا یا عدت کے گزرنے کے بعد باہم رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا پہلی دی ہوئی طلاقوں کو ختم نہیں کرتا ، لہذا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک یا دو طلاق دیدے پھررجوع کرلے یا نکاح کرلےتو ایسی صورت میں یہ رجوع یا نکاح تو درست ہو گا، اور دونوں کیلئے میاں بیوی کی طرح رہنا جائزہوگا ، لیکن ان طلاقوں کے بعد اگر وہ کسی بھی موقع پر تیسری طلاق دے گا، تو اس سے اسکی بیوی پر مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو جائے گی، جسکے بعد بغیر حلالۂ شرعیہ کے ساتھ رہنا جائز نہ ہو گا۔
کمافی الھدایة: وإذا طلق الحرة تطليقة أو تطليقتين وانقضت عدتها وتزوجت بزوج آخر ثم عادت إلى الزوج الأول عادت بثلاث تطليقات ويهدم الزوج الثاني ما دون الثلاث كما يهدم الثلاث وهذا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله وقال محمد رحمه الله لا يهدم ما دون الثلاث " لأنه غاية للحرمة بالنص فيكون منهيا ولا إنهاء للحرمة قبل الثبوت ولهما قوله عليه الصلاة والسلام لعن الله المحلل والمحلل له سماه محللا وهو المثبت للحل " (2/258)۔
وفی الدرالمختار: (والزوج الثاني يهدم بالدخول) فلو لم يدخل لم يهدم اتفاقا قنية (ما دون الثلاث أيضا) أي كما يهدم الثلاث إجماعا لأنه إذا هدم الثلاث فما دونها أولى خلافا لمحمد، فمن طلقت دونها وعادت إليه بعد آخر عادت بثلاث لو حرة وثنتين لوأمة.وعند محمد وباقي الأئمة بما بقي وهو الحق فتح، وأقره المصنف كغيره.(3/418)۔
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1