السلام علیکم ! پاکستان میں ہر سال اسلامی سال کے آغاز پر یہ بحث چل پڑتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شھادت محرم میں ہے، یا ذوالجحہ میں ،کچھ علماء کہتے ہیں کہ محرم میں ہے ،اور بہت سارے کہتے ہیں کہ ذوالجحہ میں ہے اس سلسلے میں آپ سے راہنمائی چاہیئے تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اصل تا ریخ کیا ہے ؟ اور کیا محرم میں وفات کی روایت ضعیف ہے ؟
واضح ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی تاریخ وفات کے متعلق کتب تاریخ میں مختلف روایات نقل کی گئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ذو الحجہ کے مہینے کی چھبیس تاریخ کو ہوئی، اور ایک روایت کے مطابق ذوالحجہ کی ستائیسویں شب کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، جبکہ ایک روایت میں یہ تفصیل ذکر کی گئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چھبیس ذو الحجہ کے دن نیزہ مارا گیا اور پھر آپ کی وفات یکم محرم الحرام کو ہوئی، اور اس دن آپ کو دفن کیا گیا، البتہ مور خین کا زیاد ہ ر جہان اس طرف معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کی شہادت ماہ ذوالحجہ میں ہوئی، اور یکم محرم الحرام کو تد فین ہوئی ہے، تاہم کسی کی تاریخ وفات کی تعیین کیلئے تاریخی روایات میں اختلاف کی بنیاد پر عام لوگوں کیلئے بحث و مباحثہ میں پڑ نامناسب نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔
كما في تاريخ الطبري: حدثني سلم بن جنادة، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنْ عَبْدِ العزيز بن أبي ثابت بن عبد العزيز بن عمر بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبي، عن عبد الله بن جعفر، عن أبيه، عن المسور بن مخرمة وكانت أمه عاتكة بنت عوف قال: خرج عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا يَطُوفُ فِي السُّوقِ، فَلَقِيَه أَبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة، وكان نصرانیا، فقال: يا أميرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعِدنِي عَلَى المغيرة بن شعْبَهُ، فَإِنَّ عَلی خَرَاجًا كثيرا (إلى قوله ). قال: ثم توفي ليلة الأربعاء لثلاث ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين (إلى قوله )، وقَدْ قِيلَ إِنَّ وَفاته كَانَتْ في غرة المحرم سنة أربع وعشرين (1904)
وفيه أيضاً: حدثني الحارث قال: حدثنا محمد بن سعد، قال: أخبرنا محمد ابن عمر، قال: حدثني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن أبيه قال: طعن عمر رضى الله تعالى عنه يوم الأربعاء الأربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين (إلى قوله) قال: فذكرت ذلك لعثمان الاخنسی فقال ما أراك إلا وهلت،توفی عمر رضی الله تعالى عنه الأربع ليال بقین من ذي الحجة (إلى قوله)، عن أبي معشر، قال قتل عمر يوم الأربعاء الأربع ليال بقين من ذي الحجة تمام سنة ثلاث وعشرين إلى قوله، قالوا: طعن عمر يوم الأربعاء السبع بقين من ذي الحجة. قال وقال غيرهم.لست بقين من ذي الحجة إلى قوله وحدثت عن هشام بن محمد، قال: قتل عمر الثلاث ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين (4/ 193)
وفي أسد الغابة: روى أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن أبيه. أنه قال طعن عمر يوم الأربعاء الأربع ليال بقين من ذي الحجة، سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين، وكانت خلافته عشر سنين، وخمسة أشهر، وأحدا وعشرين يوما (إلى قوله) وقال عثمان بن محمد الأخنسی هذا وهم، توفي عمرلاربع ليال بقين من ذي الحجة، وبویع عثمان يوم الأثنين لليلة بقیت من ذي الحجة وقال ابن قتيبة: ضربه أبو لؤلؤة يوم الأثنين لاربع بقين من ذي الحجة، ومكث ثلاثا، وتوفي، فصلى عليه صہیب، وقبر مع رسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأبي بكر وكانت خلافته عشر سنين، وستة أشهر. وخمس ليال، وتوفی وهو ابن ثلاث وستين سنة، وقيل: كان عمره خمسا وخمسين سنة، والأول أصح ما قیل في عمر اھ (166/4) ۔
وفى طبقات الكبير: قال اخبرنا محمد بن عمر ، قال حدثني أبو بكر بن. اسماعيل عن أبيه قال: طعن عمر بن الخطاب يوم الاربعاءلاربع ليال بوين من ذي الحجة، سنة ثلاث و وعشرين، ودفن يوم لاحد صباح ھلال المحرم سنة أربع و عشرين (278/3) ۔
وفیئ تاریخ ابن خلدون :ولم يزل يذكر الله إلى أن توفي ليلة الأربعاء لثلاث بقین من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، وصلى عليه صہیب وذلك لعشر سنين وستة أشهر من خلافته (569/2)۔
وفي تاريخ دمشق لابن عساكر: قال الواقدي في الطبقات طعن عمر في ثلاث ليال بقين من ذي الحجة وتوفي لہلال المحرم سنة أربع وعشرين وقال في التاريخ طعن يوم الأربعاءلاربع بقين من ذي الحجة وقال ابن نمير توفي سنة أربع وعشرين إلى قوله وطعن للیال بقين من ذي الحجة فمكث ثلاث ليال ثم مات رضي الله عنه يوم السبت لغرة المحرم سنة أربع وعشرين اھ (14/478)۔ واللہ اعلم بالصواب
حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟
یونیکوڈ سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0