سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

حضرت عمر رض کس تاریخ کو شہید کئے گئے؟

فتوی نمبر :
46864
| تاریخ :
2021-08-11
تاریخ / سیرت / سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

حضرت عمر رض کس تاریخ کو شہید کئے گئے؟

السلام علیکم ! پاکستان میں ہر سال اسلامی سال کے آغاز پر یہ بحث چل پڑتی ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شھادت محرم میں ہے، یا ذوالجحہ میں ،کچھ علماء کہتے ہیں کہ محرم میں ہے ،اور بہت سارے کہتے ہیں کہ ذوالجحہ میں ہے اس سلسلے میں آپ سے راہنمائی چاہیئے تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی اصل تا ریخ کیا ہے ؟ اور کیا محرم میں وفات کی روایت ضعیف ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی تاریخ وفات کے متعلق کتب تاریخ میں مختلف روایات نقل کی گئی ہیں، چنانچہ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ذو الحجہ کے مہینے کی چھبیس تاریخ کو ہوئی، اور ایک روایت کے مطابق ذوالحجہ کی ستائیسویں شب کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی، جبکہ ایک روایت میں یہ تفصیل ذکر کی گئی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو چھبیس ذو الحجہ کے دن نیزہ مارا گیا اور پھر آپ کی وفات یکم محرم الحرام کو ہوئی، اور اس دن آپ کو دفن کیا گیا، البتہ مور خین کا زیاد ہ ر جہان اس طرف معلوم ہوتا ہے، کہ آپ کی شہادت ماہ ذوالحجہ میں ہوئی، اور یکم محرم الحرام کو تد فین ہوئی ہے، تاہم کسی کی تاریخ وفات کی تعیین کیلئے تاریخی روایات میں اختلاف کی بنیاد پر عام لوگوں کیلئے بحث و مباحثہ میں پڑ نامناسب نہیں جس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في تاريخ الطبري: حدثني سلم بن جنادة، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنْ عَبْدِ العزيز بن أبي ثابت بن عبد العزيز بن عمر بن عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أبي، عن عبد الله بن جعفر، عن أبيه، عن المسور بن مخرمة وكانت أمه عاتكة بنت عوف قال: خرج عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمًا يَطُوفُ فِي السُّوقِ، فَلَقِيَه أَبو لؤلؤة غلام المغيرة بن شعبة، وكان نصرانیا، فقال: يا أميرَ الْمُؤْمِنِينَ، أَعِدنِي عَلَى المغيرة بن شعْبَهُ، فَإِنَّ عَلی خَرَاجًا كثيرا (إلى قوله ). قال: ثم توفي ليلة الأربعاء لثلاث ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين (إلى قوله )، وقَدْ قِيلَ إِنَّ وَفاته كَانَتْ في غرة المحرم سنة أربع وعشرين (1904)
وفيه أيضاً: حدثني الحارث قال: حدثنا محمد بن سعد، قال: أخبرنا محمد ابن عمر، قال: حدثني أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن أبيه قال: طعن عمر رضى الله تعالى عنه يوم الأربعاء الأربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين (إلى قوله) قال: فذكرت ذلك لعثمان الاخنسی فقال ما أراك إلا وهلت،توفی عمر رضی الله تعالى عنه الأربع ليال بقین من ذي الحجة (إلى قوله)، عن أبي معشر، قال قتل عمر يوم الأربعاء الأربع ليال بقين من ذي الحجة تمام سنة ثلاث وعشرين إلى قوله، قالوا: طعن عمر يوم الأربعاء السبع بقين من ذي الحجة. قال وقال غيرهم.لست بقين من ذي الحجة إلى قوله وحدثت عن هشام بن محمد، قال: قتل عمر الثلاث ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين (4/ 193)
وفي أسد الغابة: روى أبو بكر بن إسماعيل بن محمد بن سعد، عن أبيه. أنه قال طعن عمر يوم الأربعاء الأربع ليال بقين من ذي الحجة، سنة ثلاث وعشرين، ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين، وكانت خلافته عشر سنين، وخمسة أشهر، وأحدا وعشرين يوما (إلى قوله) وقال عثمان بن محمد الأخنسی هذا وهم، توفي عمرلاربع ليال بقين من ذي الحجة، وبویع عثمان يوم الأثنين لليلة بقیت من ذي الحجة وقال ابن قتيبة: ضربه أبو لؤلؤة يوم الأثنين لاربع بقين من ذي الحجة، ومكث ثلاثا، وتوفي، فصلى عليه صہیب، وقبر مع رسول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وأبي بكر وكانت خلافته عشر سنين، وستة أشهر. وخمس ليال، وتوفی وهو ابن ثلاث وستين سنة، وقيل: كان عمره خمسا وخمسين سنة، والأول أصح ما قیل في عمر اھ (166/4) ۔
وفى طبقات الكبير: قال اخبرنا محمد بن عمر ، قال حدثني أبو بكر بن. اسماعيل عن أبيه قال: طعن عمر بن الخطاب يوم الاربعاءلاربع ليال بوين من ذي الحجة، سنة ثلاث و وعشرين، ودفن يوم لاحد صباح ھلال المحرم سنة أربع و عشرين (278/3) ۔
وفیئ تاریخ ابن خلدون :ولم يزل يذكر الله إلى أن توفي ليلة الأربعاء لثلاث بقین من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين، وصلى عليه صہیب وذلك لعشر سنين وستة أشهر من خلافته (569/2)۔
وفي تاريخ دمشق لابن عساكر: قال الواقدي في الطبقات طعن عمر في ثلاث ليال بقين من ذي الحجة وتوفي لہلال المحرم سنة أربع وعشرين وقال في التاريخ طعن يوم الأربعاءلاربع بقين من ذي الحجة وقال ابن نمير توفي سنة أربع وعشرين إلى قوله وطعن للیال بقين من ذي الحجة فمكث ثلاث ليال ثم مات رضي الله عنه يوم السبت لغرة المحرم سنة أربع وعشرين اھ (14/478)۔ واللہ اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 46864کی تصدیق کریں
0     1866
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی کتنی شادیاں تھیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 2
  • کیا حضرت علی نے پہلے تین خلفاء کی بیعت کی تھی؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • خلافت ِ راشدہ سے کیا مراد ہے؟ اور صحیح القعیدہ شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنا، جائز کام کے لیے رشوت دینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت امام حسین اور اہل بیت کی شان میں گستاخی کرنے والا

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • چاند اور سورج گرہن کے وقت امہات المؤمنینؓ اور حضرت فاطمۃؓ کا عمل

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونے والا واقعہ

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت سکینہؓ کی وفات کے وقت عمر کتنی تھی؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے شراب پینے کے بارے میں

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • حضرت امیر معاویہ کے والدین کے اسماء گرامی

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • صحابہ کرامؓ کی لکھی ہوئی کتابوں کے نام

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت حسینؓ سے تو ضیاء الحق (جنرل) ہی اچھے رہے کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • واقعہ غدیر خم کی پوری حقیقت

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت امیر معاویہؓ پر چند اعتراضات اور ان کے جوابات

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • ام کلثوم بنت فاطمۃؓ کا نکاح کس سے ہوا تھا؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • خلفاءِ ثلاثہ کے طریقۂ انتخاب پر ایک اعتراض کا جواب

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • اہل بیت سے مراد

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت ابو ہریرہؓ کو قصوار ماننےوالا کا حکم

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت عائشہ کی وفات اور تجہیز وتکفین سے متعلق چند سوالات

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
Related Topics متعلقه موضوعات