شوہر نے اپنی بیوی کو کاغذ پر ایک طلاق دی، اگر شوہر نے بیوی کو مہینہ گزرنے کے بعد دوسری طلاق نہ دی ہو اور نہ ہی بیوی نے اسکے ساتھ تیس دن تک صلح کی ہے، تو اب کیا کیا جائے ؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر نے تحریری طور پر ایک طلاق صریح لفظوں میں دیدی ہو تو اس سے اسکی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو گئی ہے ، چنانچہ شوہر کو دورانِ عدت رجوع کرنے کا اختیار ہے ، لہذا اگر شوہر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کرلے مثلاً کہہ دے کہ " میں رجوع کرتا ہوں “ وغیر ہ یا پھر عملاً میاں بیوی والے تعلقات قائم کر لیں یا شہوت کیسا تھ بیوی کو چھوئے تو اس سے بھی رجوع ہو جائے گا، ورنہ رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت ختم ہونے پر دونوں کا نکاح ختم ہو جائے گا، اسکے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کیلئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کیساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہو گا، بہر دو صورت آئندہ کیلئے شوہر کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہو گا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط کی جائے۔
كما في تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق: (قوله هي استدامة الملك القائم في العدة) أي الرجعة إبقاء النكاح على ما كان مادامت في العدة لقوله تعالى فأمسكوهن بمعروف) [البقرة: (231) لأن الإمساك استدامة الملك القائم لا إعادة الزائل وقوله تعالى (وبعولتهن أحق بردهن) [البقرة: 228] يدل على عدم اشتراط رضاها، وعلى اشتراط العدة إذ لا يكون بعدها بعلا ا (504/1)
و في الفتاوى الهندية :الرجعة إبقاء النكاح على ما كان ما دامت في العدة كذا في التبيين اھ (468/1)
و في الدر المختار:هي استدامة الملك القائم بلا عوض ما دامت (في العدة) أي عدة الدخول حقيقة اھ (398/3)
و فيه ايضاً: (قوله: بلا عوض أي بلا اشتراط عوض، فالمراد نفي اشترا طه لا نفي وجوده لما علمت، وإنما ذكره تأكيدا لدعوى قيام الملك إذ لو زال اشترط في ردها إليه العوض اھ (398/3) -
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1