گمشدہ و متروکہ مال

راستے سے ملی ہوئی رقم کا حکم

فتوی نمبر :
57353
| تاریخ :
2022-07-15
معاملات / امانات / گمشدہ و متروکہ مال

راستے سے ملی ہوئی رقم کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب!
آپ کی گذارش میں ایک مسئلہ پر فتویٰ کی ضرورت ہے۔
مسئلہ: ایک بڑی مارکیٹ میں راستے سے ایک بہت بڑی رقم مجھے ملی ہے , دو ماہ سے تشہیر کروا رہا ہوں , پر مالک کا کوئی پتہ نہیں , ڈر ہے اگر میں نے صدقہ کر دیا اور بعد میں مالک آگیا , تو میں واپس نہیں کر سکوں گا۔
میرا چھوٹا کاروبار ہے اگر اس میں رقم کو لگوا دوں اور مالک آئے تو اس کی رقم اس کو واپس کر دوں ؟ مرنے کے بعد اس کاروبار میں لگی رقم کا کیا مسئلہ ہو گا ؟ اس کے اوپر جو بہتر ہو , فتویٰ دے دیں-

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

تشہیر کے باوجود اگر مالک معلوم نہیں ہورہا ،اور سائل خود زکوۃ کا مستحق نہ ہو تو پھر مذکور رقم اپنے کاروبار میں لگانااور اس سے منافع حاصل کرنا جائز نہیں ، بلکہ سائل پر لازم ہے کہ وہ رقم کسی مستحقِ زکوۃ فرد کو مالک کی طرف سے صدقہ کردے ، اور بعد میں مالک کے آنے پر اس کو ادائیگی کر دے , بصورتِ دیگر اس رقم کو محفوظ رکھے تا آنکہ مالک آ کر خود وصول کر لے -

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد ابو بکر سعید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 57353کی تصدیق کریں
0     884
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • راستے سے ملی ہوئی رقم کا حکم

    یونیکوڈ   گمشدہ و متروکہ مال 0
Related Topics متعلقه موضوعات