محترم جناب مفتی صاحب جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی
جناب عالی!
گذارش کی جاتی ہے کہ تھانہ سرجانی ٹاؤن میں ایف، آئی، آر نمبر ۱۷/ ۱/ ۲۰۱۳ جرم دفعہ ۳۲۲ت،پ برخلاف جعلی عامل و جادوگر ، بنام غلام مصطفیٰ ولد فضل احمد درج ہوا۔ جس میں جعلی عامل نے بذریعہ تعویذ و مشروب بچی منتشا نور دختر شاکر حسین عمر دو سال جو کہ اس جادوگر کے عمل سےکچھ ہی دیر میں فوت ہوگئی۔
سوال یہ ہے کہ بچی کو جو تعویذ دیا گیا جس کی نقل لف کی جاتی ہے۔ فرمایا جائے کہ اس تعویذ کی تحریر کی حقیقت سے رہنمائی فرمائی جائے۔
تعویذ اور سحر کی ذریعہ کسی کی جان لینا ایسا ہی ناجائز اور حرام ہے جیسا کہ بندوق یا کسی دوسرے آلۂ جارحہ کے ذریعہ سے قتل کرنا، جبکہ بعض عاملوں سے رابطہ کرنے پر معلوم ہوا کہ سوال کے ساتھ منسلکہ شکل ،کالے جادو کا نقش ہے، اگر متعلقہ جادوگر اپنے جُرم کا اقرار کرے اور مقتولہ کے ورثاء اسے معاف نہ کریں تو حکومتِ وقت اسے قرارِ واقعی سزا دے سکتی ہے، تاکہ دوسرے لوگ بھی اس سے عبرت حاصل کریں اور ایسے جادوگروں سے محفوظ رہنےکی کوشش کریں، اور اگر وہ معاف کردیں تو اس کا بھی انہیں اختیار ہے۔
ففی أحكام القرآن للجصاص: قال أبو بكر اتفق هؤلاء السلف على وجوب قتل الساحر ونص بعضهم على كفره واختلف فقهاء الأمصار في حكمه على ما نذكره فروى ابن شجاع عن الحسن بن زياد عن أبي حنيفة أنه قال في الساحر يقتل إذا علم أنه ساحر ولا يستتاب اھ (1/ 61)۔
و فی شرح الفقه الأکبر: فلو فعل مافیه ھلاك انسان أو مرضه أو تفریق بینه و بین امرأته وھو غیر نکیر لشیئ من شرائط الإیمان لایکفر لکنه یکون فاسقاً ساعیاً فی الأرض بالفساد فیقتل الساحر والساحرہ لأن علته القتل السعی فی الأرض بالفساد (إلی قوله) إن قتل بالسحر قُتل۔ (۱۴۵،۱۵۰)۔
وفی حاشية ابن عابدين: في الفتح: السحر حرام بلا خلاف بين أهل العلم، (إلی قوله) قال أبو حنيفة: الساحر إذا أقر بسحره أو ثبت بالبينة يقتل ولا يستتاب منه الخ (4/ 240)