کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ان مسائل کے بارے کہ :
(۱) ایک شخص کا انتقال بعد عشاء ہوا صبح ۱۰؍بجے انہیں (میت کو) دفنایا گیا ، کیا میت کے گھر میں میت کے موجود ہوتے وقت رشتے دار یا گھر والے کھا ،پی سکتے ہیں یا نہیں؟
(۲) تین دن تک گھر میں پکاسکتے ہیں یا نہیں؟ خواہ مجبوری ہو یا عدمِ مجبوری ہو ، تین دن نہ پکانا فرض ہے یا واجب یا سنت؟
(۳) میت کی اہلیہ کے بارے میں کیا حکم ہے؟ آیا کہ وہ مغرب کے بعد غسل کرسکتی ہے یا نہیں ؟ اور کیا وہ سفید لباس ہی پہنے ؟ اور کیا وہ سارے زیور اُتارکر بیٹھے ؟ کیا وہ کھلے آسمان کے نیچے بھی نہ جائے؟ اور کیا وہ تیل وغیرہ کے لئے بال کھول سکتی ہے یا نہیں؟
(۴) بہن کے منگیتر سے مطلقاً پردہ ہے یا نہیں؟ اور شوہر کے بھانجے اور بھتیجے کے بارے میں کیا رائے ہے؟
(۵) قرآن خوانی میں سجدۂ تلاوت قرآن پڑھنے والا کرے یا قرآن خوانی کروانے والا کرے؟
(۶) سوئم مرنے کے تین دن بعد کریں یا دفنانے کے تین بعد؟
(۷) کیا میت کے ساتھ بیوی چند قدم باہر چلی جائے تو آیا کہ عدت کا حکم ساقط ہوگیا؟
(۸) دورانِ عدت بیماری کے سبب بیوہ باہر نکل سکتی ہے یا نہیں؟ اور کیا وہ قریبی رشتہ داروں کی میت میں جاسکتی ہے یا نہیں؟ اگر جانے کا حکم ہو تو ضروری ہے کہ لیڈی ڈاکٹر کے پاس جائے ؟اگر ڈاکٹر کے پاس جاسکتی ہو تو وہ ڈاکٹر کو اپنا چہرہ یا وہ عضو جس میں تکلیف ہے کھول سکتی ہے؟ اور عدت ادا کرنے پر کیا اجر ہے؟
(۹) کیا دورانِ عدت اُٹھ جانے پر کفارہ لازم آتا ہے یا نہیں؟ مجبوری کے سبب یا عدم مجبوری کے سبب ؟ نیز کفارہ کیا ہے؟
(۱۰) کیا مرنے والے کی نمازیں معتدۃ ادا کرسکتی ہے یا نہیں؟ وصیت کی صورت میں کیا حکم ہے؟
(۱۱) کیا میت کے گھر میں کھانا جائز ہے یا نہیں؟ خواہ رشتے دار ہو یا غیر؟
(۱،۲، ۱۱) ایسی صورت میں کھانا کھانے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں بلاشبہ جائز اور درست ہے البتہ اہلِ میت کیلئے غم و حزن اور صدمہ کا دن ہوتا ہے اور انہیں کھانا وغیرہ تیار کرنے کی عموماً فرصت نہیں ہوتی اور اس حادثے کی وجہ سے تیار کرنا پسند بھی نہیں کرتے اس لئے شریعتِ مطہرہ نے اہلِ میت کے پڑوسیوں اور دیگر اقرباء کیلئے مستحب قرار دیا کہ کم از کم ایک دن رات اُن کیلئے کھانے وغیرہ کا انتظام کریں۔
(۳، ۸، ۹) عدتِ وفات کے دوران زیب و زینت اختیار کرنا اور بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں البتہ غسل کرنے اور کھلے آسمان تلے آنے اور بوقتِ ضرورت تیل لگانے یا ڈاکٹر کے پاس جانے کی گنجائش ہے اور بلا ضرورت نکلنا بہت سخت گناہ ہے مگر شرعاً اس پر کوئی کفارہ نہیں بلکہ توبہ اور استغفار لازم ہے۔
(۴) مذکور افراد غیر محرم ہیں ان سے پردہ فرض ہے، لہٰذا ان کے سامنے بے پردہ آنے اور ان سے بے تکلف ہونے سے احتراز لازم ہے۔
وفی الدر المختار: وحرم المصاہرۃ بنت زوجتہ الموطوء ۃ وأم زوجتہ وجداتہا مطلقًا بمجرد العقد الصحیح۔ (ج۳، ص۳۰)
وقولہ تعالیی بعد ذکر المحرمات: وأحل لکم ما وراء ذٰلکم۔ (الآیۃ)
(۵) آیت سجدہ کی تلاوت کرنے والے اور سننے والے دونوں پر سجدہ تلاوت واجب ہے، قرآن خوانی کروانے والے پر نہیں، البتہ اگر اُس نے بھی آیت سجدہ سنی ہو تو اس صورت میں اس پر بھی سجدہ تلاوت لازم ہے۔
وذکر فی المجتبٰی أن الموجب للسجدۃ أحد ثلاثۃ، التلاوۃ والسماع والأتمام۔ (شامی: ج۲، ص۱۰۴)
(۶) اس رسم کا قرونِ ثلاثہ مشہود لہا بالخیر سے کوئی ثبوت نہیں لہٰذا یہ ناجائز اور بدعت ہے جس سے احتراز لازم ہے۔
ویکرہ اتخاذ الطعام فی الیوم الاول، والثالث وبعد الاسبوع۔ (بزازیۃ: ج۱، ص۸۱)
(۷) اس طرح کرنے سے عدت کا حکم ساقط نہیں ہوتا البتہ اس طرح کرنا معتدہ کیلئے درست نہیں۔
(۱۰) اگر مرحوم نے اس سلسلہ میں کوئی وصیت کی ہو تو اس کی پوری تفصیل لکھ کر بھیج دیں انشاء اللہ اس کا حکم شرعی بھی بیان کیا جائے گا۔ واﷲ اعلم بالصواب!
ویستحب لجیر ان أہل المیت والأقرباء الا باعد تہیئۃ طعام لہم یشبعہم یومہم ولیلتہم لقولہ ﷺ ’’اصنعوا لال جعفر طعامًا فقد جائہم ما یشغلہم‘‘۔ (شامی: ج۲، ص۲۴۰)۔
وفی الدر المختار:( بترک الزینۃ )بحلی أو حریر او امتشاط بضیق الأسنان، (والطیب) وان لم یکن لہا کسب إلّا فیہ، (و الدہن) ولو بلا طیب کزیت خالص (والکحل والحناء ولبس المعصفر والمزعفر )و مصبوغ بمغرۃ أو ورس إلّا بعذر، راجع للجمیع، إذا الضرورات تبیح المحظورات الخ
وفی رد المحتار:(قولہ :راجع للجمیع) فإن كان وجع بالعين فتكتحل، أو حكة فتلبس الحرير، أو تشتکی رأسہا فتدہن وتمشط بالأسنان الغلیظۃ المتباعدۃ من غیر ارادۃ الزینۃ، لأن ہٰذا تداو لازینۃ۔ (ج۳، ص۵۳۱، ۵۳۲)۔
جنازے کے ساتھ چالیس قدم چلنے والی بات-نماز کے اندر زبان کو حرکت دیے بغیردل دل میں قراءت کرنا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0زوجین میں سے کسی ایک کے انتقال کی صورت میں ، دوسرےکا اس کی میت کو دیکھنا ،چھونا یا دفنانا
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 0انتقال کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے کا منہ دیکھنے اور ایک دوسرے کو غسل دینے کا حکم
یونیکوڈ تجہیز و تکفین 1