السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکا تہ
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ گاؤں دیہات وغیرہ میں جب کوئی فوت ہو جاتاہے تو لو گ اس کی میت کے پاس قرآن مجید لے کر پڑھنا شروع کر دیتے ہیں غسل کروانے سے پہلے اور بعد میں ،اور اس کی قبر پر چالیس دن تک صبح اور شام جاتے ہیں اور قرآن مجید پڑھتے ہیں ،لہٰذا مہربانی فرما کر ان دونوں مسائل کا جواب الگ الگ دیں اور شریعت کی رُو سے اس پر روشنی ڈالیں کہ ان کا کرناجائز ہے یا نہیں ؟
میت کے غسل سے پہلے اس کے پاس قرآن کریم کی تلاوت ممنوع ومکروہ ہے، جبکہ غسل کے بعد جائز ہے،اسی طرح محض ایصالِ ثواب کی غرض سے قبر پر قرآن خوانی بھی اگر چہ فی نفسہ جائز ہے، مگر اس کو ایسی رسم بنا لینا کہ اس کو لازم سمجھاجاتا ہو اورجو نہ کرے، اسے بنظر ِحقارت دیکھا جاتا ہو، شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
فی الدر المختار: بناء على القول بكراهة القراءة على القبور اھ(6/ 690)۔
وفی الدر المختار: (وكره قراءة القرآن عنده إلى تمام غسله) عبارة الزيلعي حتى يغسل وعبارة النهر قبل غسله (2/ 194)۔
وفی ا الفقه الإسلامي وأدلته: وتكره عند الحنفية قراءة القرآن عنده حتى يغسل اھ(2/ 1481)۔
وفی حاشية ابن عابدين: وفي البزازية: ويكره اتخاذ الطعام في اليوم الأول والثالث وبعد الأسبوع ونقل الطعام إلى القبر في المواسم، واتخاذ الدعوة لقراءة القرآن وجمع الصلحاء والقراء للختم أو لقراءة سورة الأنعام أو الإخلاص. والحاصل أن اتخاذ الطعام عند قراءة القرآن لأجل الأكل يكره اھ(2/ 240)۔
وفیها أیضاً: فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون - اهـ(6/ 56)۔
انتقال کے بعد میاں بیوی میں سے ایک کا دوسرے کو دیکھنا ،غسل دینا یا غسل دینے کی وصیت کرنا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بحالتِ مجبوری میاں بیوی میں سے کسی ایک کے فوت ہوجانے کی صورت میں دوسرے کو غسل دینا ، دیکھنا،چھونا
یونیکوڈ مردہ اور میت 0بیماری کی نمازوں کا فدیہ دینے-مردے کے گھر میں آگ جلانے-اور قبر پر کتبہ لگانے کا حکم
یونیکوڈ مردہ اور میت 0