کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام درجِ ذیل مسائل کے بارے میں کہ:
(1)۔ایک ہندو کہتا ہے کہ مجھے قرآن پڑھاؤ ، لیکن مسلمان نہیں ہونگا ، تو اس کا قرآن پڑھنا اورہاتھ لگانا کیسا ہے؟
(2)۔ برسی اور چالیسویں کا کھانا کیسا ہے؟ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ دونوں اللہ کے نام پر کی جاتی ہیں ، صرف تاریخ کا تقرر ہوتا ہے ، ان کے کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں، نیز گیارہویں شریف کا کیا حکم ہے؟ براہِ کرم ان مسائل کا شریعتِ اسلامی کی رو سے وضاحت فرما کر ممنون فرمائیں۔
(1)۔ اگر اس کے جسم پر کوئی ظاہری نجاست نہ لگی ہو اور محض سیکھنا چاہے تو اس نیت سے کہ ہوسکتا ہے کہ وہ اسے پڑھ کر ہدایت و رہنمائی حاصل کرلے ، اس کو پڑھانا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
(2)۔مذکورہ تاریخوں کا اہتمام بدعتِ محض ہے ، شریعت میں اس قسم کی کوئی تخصیص و تعیین نہیں ، جب چاہے کیا جاسکتا ہے ، جبکہ گیارہویں کا کھانا ، اگر غیر اللہ کی نذر نہ ہو ، بلکہ اللہ تعالیٰ کے نام پر اور متعلقہ بزرگوں کے محض ایصالِ ثواب کی خاطر تیار کیا گیا ہو ،تو وہ بلاشبہ حلال ہے ، ورنہ نہیں۔
فی الدر : و يمنع النصراني من مسه ، و جوزه محمد إذا اغتسل و لا بأس بتعليمه القرآن و الفقه عسى یھتدی و تحته فی الشامية و فی بعض النسخ الکافر اھ(1/ 177)۔
قال اللہ تعالی : {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةُ وَ الدَّمُ وَ لَحْمُ الْخِنْزِيرِ وَ مَا أُهِلَّ لِغَيْرِ اللَّهِ بِهِ } [المائدة: 3]۔
و فی سنن الترمذي : حدثنا قتيبة بن سعيد أنبأنا حماد بن زيد عن مجالد عن الشعبي عن النعمان بن بشير قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول الحلال بين و الحرام بين و بين ذلك أمور مشتبهات لا يدري كثير من الناس أمن الحلال هي أم من الحرام فمن تركها استبراء لدينه و عرضه فقد سلم و من واقع شيئا منها يوشك أن يواقع الحرام كما أنه من يرعى حول الحمى يوشك أن يواقعه ألا و إن لكل ملك حمى ألا و إن حمي الله محارم اھ(3/ 511)۔