سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم ﷺ کی ازدوجی زندگی بیان کرنے کیلۓ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کرنا

فتوی نمبر :
60186
| تاریخ :
2016-05-25
تاریخ / سیرت / سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم

ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور نبی اکرم ﷺ کی ازدوجی زندگی بیان کرنے کیلۓ الفاظ کے چناؤ میں احتیاط کرنا

محترم مفتی صاحب! السلام علیکم
گزارش ہے کہ جنید جمشید مرحوم ایک ویڈیو کلپ میں ناظرین و سامعین سے حدیثِ مبارک بابت حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کچھ یوں بیان کرتا ہےکہ ’’ اماں عائشہ اٹینشن (توجہ) مانگتی تھیں اور آنحضرتؐ کی سب سے چہیتی تھیں، اٹیشن مانگتی تھیں، اکثر بیمار ہو کر لپٹ جایا کرتی تھیں ، اللہ کے نبیؐ آتے تھے، تیمارداری کرتےتھےکہ کیا ہوا ؟ ایک دن اپنے سر کو لپیٹ کر لپٹ گئیں، اور ہائے ہائے کرنے لگی ، اللہ کے نبیؐ نے پوچھا کیا ہوا عائشہ ؟ آپؐ نے فرمایا، ہائے عائشہ! اگر اسی بیماری میں تیرا انتقال ہو گیا تو اللہ کے نبیؐ تیرا جنازہ پڑھائیں گے تو کتنی خوش قسمت ہوگی ، اٹھ کر بیٹھ گئیں ، یوں اتارا سر اور کہا، آپؐ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ میں مر جاؤں اور آپ دوسریوں کے پاس پہنچ جائیں۔ ( اس بات پر جنید جمشید اور حاضرینِ مجلس والے ہنستے ہیں) تو یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ نبیؐ کی محبت مل کے بھی عورت نہیں بدل سکتی ، اس کو بدلنے کی کوشش نہیں کرنا، یہ ٹیڑھی پسلی کی پیداوار ہے ، اس کو زور لگاؤگے تو کڑک ہو جائےگی۔
لہٰذا مندرجہ بالا بیان کی روشنی میں واضح دلیل کیساتھ شرعی احکام کے مطابق فتویٰ کا اجراء فرما کر رہنمائی فرمائی جائےکہ مندرجہ بالا بیان گستاخئی رسولؐ ، یا گستاخئی صحابہ کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟
چونکہ یہ بیان متعلق تھانہ رسالہ کراچی پر مقدمہ 14/234 جرم کے تحت درج ہو کر زیر تفتیش ہے ، آپ کے تعاون سے مقدمہ کے ڈسپوزل میں مدد مل سکتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں مذکور واقعہ سے متعلق شخصِ مذکور مسمیٰ جنید جمشید نے اپنا ایک تفصیلی بیان ہمارے ہاں جامعہ بنوریہ سائٹ کراچی میں مورخہ’’1/12/2014‘‘کو اپنے بھائی کے توسط سے جمع کرایاتھا ، جس پر غور و خوض کے بعد فتویٰ نمبر: 50419 جاری کر دیا گیا، جسکی فوٹو کاپی منسلک ہے ، جس کی روشنی میں واضح ہو کہ موصوف کوئی عالمِ دین نہیں، تا ہم صحیح العقیدہ اور اہلِ السنۃ و الجماعت سے متعلق شخص ہے، مگر ایک ٹی وی پروگرام میں نادانستگی اور بے خیالی میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے باہمی الفت و محبت اور باہمی بے تکلفی کا تذکرہ کرتے ہوئے، اس نے ایسا انداز اختیار کر لیا جسے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی ذاتِ عالی کے بارے میں اساءتِ ادب اور ان کی شانِ عالی میں بے ادبی سمجھا گیا، اور سیاقِ کلام سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض عامیانہ اور بے علمی پر مبنی اندازِ بیان کی بناء پر سمجھا جا رہا ہے، لہٰذا اس کو حقیقی معنوں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی شان میں گستاخی قرار نہیں دیا جاسکتا۔ و اللہ أعلم
منسلکہ فتویٰ درجِ ذیل ہے:
جواب:
1۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم، آپ کے اصحاب اور اہلِ بیت خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ و دیگر ازواجِ مطہرات رضوان اللہ علیہن امتِ مسلمہ کی سب سے بلند اور بہتر ہستیاں ہیں، ان کا احترام تمام مسلمانوں پر فرض اور جزءِ ایمان ہے، اور ان کی شانِ عالی میں دانستہ طور پر گستاخی اور توہین، بلکہ ایسا جملہ بولنا یا ایسا انداز اختیار کرنا حتی کہ دل میں بھی قصداً ایسا خیال لانا جس میں ان مقدس ہستیوں کی بےادبی کا ادنیٰ شائبہ نکلتا ہو، کسی ادنیٰ مسلمان سے متصور نہیں ا ور اگر نادانستگی اور بے خیالی میں ایسے الفاظ نکل جائیں تو توجہ دلانےاور متنبہ کرنے کی صورت میں اس کی شان یہ ہےکہ وہ اس پر ضد اور اصرار نہیں کرتا، بلکہ فوراً ندامت کے ساتھ توبہ کر لیتا ہے۔
اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سائل نے جب نادانستگی اور بے خیالی میں حضرت عائشۃ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور سرورِ کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے باہمی الفت و محبت ، اور باہم بے تکلفی کا تذکرہ کرتے ہوئے ایسا انداز اختیار کر لیا جسے حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی اساءتِ ادب اور ان کی شانِ عالی میں بے ادبی سمجھا گیا، اور سیاقِ کلام سےبھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض عامیانہ اور بے علمی پر مبنی اندازِ بیان کی بناء پر سمجھا جا رہا ہے، لہٰذا سائل نے جب بعض مسلمانوں کے متنبہ کرنے پر اپنے نادانستگی میں دیئے گئے بیان سے برملا تو بہ کر لی ہے تو قرآن و سنت اور فقہ حنفی کی روشنی میں اس کی یہ توبہ بھی قابل قبول ہے، اور امید ہے کہ عند اللہ بھی مواخذہ نہیں ہوگا۔
چنانچہ سائل کے نامناسب اندازِ بیان اور اس پر توبہ و استغفار کر لینے کے بعد ( جبکہ موصوف کا اہلِ السنۃ و الجماعت میں سے ہونا ، بلکہ مشہور مبلغِ اسلام ہونا بھی معروف ہے) اس معروضی واقعہ کو بنیاد بنا کر اسے گستاخ رسول یا توہینِ صحابہ کا مرتکب ثابت کرنا، اور اس سلسلہ میں ایف آئی آر تک کٹوا دینا ، اور مسلمانوں میں انتشار و افتراق پھیلانا ،اہلِ علم اور اہلِ السنۃ و الجماعت کا شیوہ نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
2۔ جہاں تک عورت کی جبلت و فطرت سے متعلق سائل نے جو جملہ استعمال کیا ہے،اس کا تعلق اگرچہ اندازِ بیان اور موقع محل کے اعتبارسے نامناسب معلوم ہو ، مگر سوال میں درج احادیثِ مبارکہ ( جو کہ مستند ماخذ سے لیے گئے ہیں) کی روشنی میں یہ کسی طرح بھی توہینِ رسالت کے زمرے میں نہیں آتا۔

مأخَذُ الفَتوی

فی شرح الفقه الاکبر : و لذالک ذھب جمہور العلماء الی ان الصحابة رضی اللہ عنہم کلھم عدول قبل فتنة عثمان و کذا بعدھا و لقوله علیه الصلاة و السلام : اصحابی کالنجوم فبایھم اقتدیتم اھتدیتم رواہ الدارمی و ابن عدی و غیرھما و قال ابن دقیق العید فی عقیدته : و ما نقل فیما شجر بینھم و اختلفوا فیه فمنه ما ھو باطل و کذب فلایلتف الیه و ماکان صحیحا اولناہ تاویلا حسنا لان الثناء علیھم من اللہ سابق و ما نقل من الکلام اللاحق محتمل التاویل و المشکوك و الموھوم لایبطل المحقق و المعلوم ، ھذا و قال الشافعی رحمه اللہ تلك دماء طھر اللہ ایدینا منھا فلانلوث السنتنا بھا و سئل احمد عن امر علی و عائشة رضی اللہ عنھما فقال : تلک امة قدخلت لھا ما کسبت و لکم ماکسبتم و لاتسئلون عما کانوا یعملون اھ(117)۔
و في الأساليب البديعة في فضل الصحابة و إقناع الشيعة : و نحسن الظن بنساء النبي صلى الله عليه وسلم أجمعين ، و نعتقد أنهن أمهات المؤمنين ، و أن عائشة رضي الله عنها أفضل نساء العالمين ، وبرأها الله تعالى من قول الملحدين فيها بما نقرؤه و يتلى في كتاب الله إلى يوم الدين . و كذلك فاطمة بنت نبينا محمد صلى الله عليه و سلم و رضى الله تعالى عنها و عن بعلها و أولادها أفضل نساء العالمين، و يجب موالاتها و محبتها كما يجب ذلك في حق أبيها صلى الله عليه وسلم . قال النبي صلى الله عليه وسلم : «فاطمة بضعة مني يريبني ما يريبها» اھ(ص: 34)۔
و فيها ايضا : قال رحمه الله تعالى في كتاب الصواعق : اعلم أن الذي أجمع عليه أهل السنة و الجماعة أنه يجب على كل مسلم تزكية جميع الصحابة بإثبات العدالة لهم و الكف عن الطعن فيهم و الثناء عليهم ، فقد أثنى الله سبحانه و تعالى عليهم في آيات من كتابه . منها قوله تعالى : {كنتم خير أمة أخرجت للناس} فأثبت الله لهم اھ(ص: 56)۔
قال تعالی : ان اللہ لایغفر ان یشرك به و یغفر مادون ذلک لمن یشاء و من یشرک باللہ فقد افتری اثما عظیما الاية(سورة النساء48)۔
و قال تعالی ایضا : قل یعبادی الذین اسرفوا علی انفسھم لاتفنطوا من رحمة اللہ ان اللہ یغفر الذنوب جمیعا انه ھو الغفور الرحیم اھ(الزمر الاية53)۔
و فی الصحیح للبخاری : و قال عروة أيضا لم يسم من أهل الإفك أيضا إلا حسان بن ثابت و مسطح بن أثاثة و حمنة بنت جحش في ناس آخرين(الی قوله) قال عروة كانت عائشة تكره أن يسب عندها حسان الخ(2/ 594)۔
و فیه ایضا : قال ابوبکر الصدیق و کان ینفق علی مسطح بن اثاثة لقرابة منه و فقرہ و اللہ لا انفق علی مسطح شیئا ابدا بعد الذی قال لعائشة ما قال : فانزل اللہ و لایاتل اولوا الفضل منکم ( الی قوله) غفور رحیم اھ(2/ 596)۔
ففي إتحاف الخيرة المهرة : و قال الحارث بن محمد بن أبي أسامة : حدثنا هوذة ، حدثنا عوف ، عن رجل ، قال: سمعت سمرة بن جندب ، يخطب على منبر البصرة ، و قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ، يقول : إن المرأة خلقت من ضلع أعوج ، و إنك تريد إقامة الضلع تكسرها ، فدارها تعش بها ، فدارها تعش بها اھ(4/ 68)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 60186کی تصدیق کریں
0     1663
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • حضرت حسن رضی اللہ عنہ کی کتنی شادیاں تھیں ؟

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 2
  • کیا حضرت علی نے پہلے تین خلفاء کی بیعت کی تھی؟

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • خلافت ِ راشدہ سے کیا مراد ہے؟ اور صحیح القعیدہ شیعہ کے پیچھے نماز پڑھنا، جائز کام کے لیے رشوت دینے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت امام حسین اور اہل بیت کی شان میں گستاخی کرنے والا

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • چاند اور سورج گرہن کے وقت امہات المؤمنینؓ اور حضرت فاطمۃؓ کا عمل

    یونیکوڈ   اسکین   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضورؐ اور حضرت فاطمہؓ اور آپ کےحسنینؓ کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونے والا واقعہ

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت سکینہؓ کی وفات کے وقت عمر کتنی تھی؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • حضرت وحشی رضی اللہ عنہ کے شراب پینے کے بارے میں

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • حضرت علیؓ کی نماز عصر قضاء ہونا اور حضورؐ کی دعا سے سورج کا واپس لوٹ آنا‘‘ ثابت ہے یا نہیں؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • حضرت امیر معاویہ کے والدین کے اسماء گرامی

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • صحابہ کرامؓ کی لکھی ہوئی کتابوں کے نام

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت حسینؓ سے تو ضیاء الحق (جنرل) ہی اچھے رہے کہنے کا حکم

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • واقعہ غدیر خم کی پوری حقیقت

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • خلفاء ثلاثہ نے کون سا کارنامہ انجام دیا جس کی بناء پر انہیں حضرت علیؓ کی موجودگی میں خلیفہ بنایا گیا؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • افضلیت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے متعلق ایک اشکال اور اس کا جواب

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت عمرؓ اور حضرت خولہؓ کے درمیان گفتگو کی حقیقت اور چند سوالات

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت امیر معاویہؓ پر چند اعتراضات اور ان کے جوابات

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 1
  • ام کلثوم بنت فاطمۃؓ کا نکاح کس سے ہوا تھا؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • خلفاءِ ثلاثہ کے طریقۂ انتخاب پر ایک اعتراض کا جواب

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضورِ اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک عورت کے بیٹے کا دوبارہ زندہ ہوجانا

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • اہل بیت سے مراد

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • دوسال کی عمر میں حضورؐ کی زیارت کرنے والا صحابی کہلائے گا یا نہیں؟

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت ابو ہریرہؓ کو قصوار ماننےوالا کا حکم

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
  • حضرت عائشہ کی وفات اور تجہیز وتکفین سے متعلق چند سوالات

    یونیکوڈ   سیرت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم 0
Related Topics متعلقه موضوعات