کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے جمعہ کے بیان میں ’’وَوَجَدَک عائِلًا فَأَغْنی‘‘ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺکو اللہ نے حضرت خدیجہ کے مال سے غنی کر دیا، اس پر ایک شخص کہتا ہے کہ آپ نے غلط کہا ہے، نبی کریمﷺ کوحضرت خدیجہؓ کے مال سے غنی نہیں کیا، آپ آیت کو غلط جگہ فٹ کرتے ہیں،آپ لوگوں کے عقائد خراب کرتے ہیں، پوچھنا یہ ہے کہ کیا میں نے غلط کہا ہے؟ جبکہ میں نے یہ تفسیر ’’معارف القرآن‘‘ مؤلفہ حضرت مفتی شفیعؒ صاحب سے دیکھ کر بیان کی ہے، براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں۔
سوال میں مذکور آیتِ شریفہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے سائل کا یہ کہنا درست ہے کہ آپ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے نادار اور بےزر پایا تو آپﷺ کو غنی و مالدار کیا جس کی ابتداء خدیجہؓ الکبریٰ کے مال میں بطورِ شرکت و مضاربت کے تجارت کرنے سے ہوئی، پھر وہ خود آپﷺ کے عقدِ نکاح میں آکر اُم المؤمنین ہوئیں تو ان کا سارا مال آپﷺ کی خدمت کے لیے وقف ہوگیا۔
اس لیے شخصِ مذکور کا یہ کہنا کہ سائل ( خطیب صاحب) نے غلط کہا ہے یا قرآن کا مطلب و مفہوم بدلا ہے، غلط فہمی اور اس کی جہالت پر مبنی ہے، اسے چاہیے کہ پہلے کسی معتمد عالمِ دین سے اس آیتِ کریمہ کی تفسیر سمجھے یا پھر معتمد تفاسیرِ قرآن کریم کو دیکھے اور بلاوجہ و بلا تحقیق اعتراض کرنے یا عوام الناس میں انتشار پھیلانے سے احتراز کرے۔
ففی تفسير روح المعاني: و قوله تعالى ﴿وَ وَجَدَكَ عائِلًا فَأَغْنى﴾ على نمط سابق و العائل المفتقر من عال يعيل عيلا و عيلة و عيولا و معيلا افتقر أي وجدك عديم المقتنيات فأغناك بما حصل لك من ربح التجارة و ذلك في سفره - صلّى الله عليه وسلم - مع ميسرة إلى الشام و بما وهبته لك خديجة - رضي الله تعالى عنها - من المال وكانت ذا مال كثير فلما تزوجها - عليه الصلاة والسلام - وهبته جميعه له - صلّى الله عليه وسلم - لئلا يقول قائل ما يثقل على سمعه الشريف عليه الصلاة والسلام (15/ 382)۔
و فی التفسير المظهري: وَ وَجَدَكَ عائِلًا فقيرا فَأَغْنى اى اعطاك بمال خديجة او بما حصل لك ربح فى التجارة بالغنائم و المراد بالغناء على هذا التقادير دفع الحاجة و ان كان بالقليل لا بمالكية النصاب و قال مقاتل يعنى اغنى قلبك فارخاك بما اعطاك من الرزق و اختاره الفراء و قال لم يكن النبي - صلى الله عليه وسلم - غنيا بكثرة المال و العرض لكن الغنى غنى النفس متفق عليه و عن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله - صلى الله عليه و سلم - قد أفلح من اسلم و رزق كفافا فقنعه الله بما أتاه رواه مسلم. (10/ 286)۔
سورۃ مائدہ کی آیت نمبر ۴۴ اور ۶۳ میں ’’احبار‘‘ اور ربانییون‘‘ سے کیا مراد ہے؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0آیت تطہیر کن مبارک ہستیوں کے بارے میں نازل ہوئی؟ اور اہل بیت میں شامل افراد
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ولی کی اجازت کے بغیر نکاح سے متعلق آیت قرآنی اور حدیث میں تعارض کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہفتہ کے دن شکار سے مطلق علیحدہ رہنے والی تیسری جماعت کے ساتھ کیا معاملہ ہوا؟
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’قوّامون‘‘ کا ترجمہ ’’حاکم‘‘ سے کرنا -اسلام میں مرد و عورت کی برابری کا تصور
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0ہاروت و ماورت نامی فرشتوں کو اللہ نے مخصوص کام کیلئے زمین پر مبعوث فرمایا
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0’’الولد للفراش‘‘ اور ’’وَجَعَلْنا مِنَ الْماءِ کلَّ شَیءٍ حَیّ‘‘ میں ظاہری تعارض اور اس کا دفعیہ
یونیکوڈ آیات کی تفسیر و تشریح 0