کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایسا ہو سکتاہے کہ ولی کو کشف کے ذریعے معلوم ہو جائے کہ میں جنتی ہوں یا کسی اور کے بارے میں کہ فلاں جنتی ہے؟ اگر ہو سکتا ہے تو دلیل سے وضاحت کریں۔
۲۔ دعا میں ایسے الفاظ استعمال کرنا کہ ’’یا اللہ مجھے اپنا جنتی ساتھی دنیا میں دکھا دے‘‘ جائز ہے یا نہیں ،دلائل سےوضاحت فرماکر ممنون فرمائیں۔
کسی ولی کو اللہ رب العزت کی طرف سے کشف کے ذریعہ اپنایا کسی اور کے جنتی ہونے کا معلوم ہو جانا ناممکن اور محال نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہے اس پر منکشف فرما دیں، تاہم اپنے جنتی ساتھی کو دنیا میں دیکھنے کی دعا کرنا کشف و الہام کے مترادف ہونے کی وجہ سے پسندیدہ نہیں، بلکہ اللہ رب العزت سے جنت میں ایک ساتھ جمع ہوجانے کی دعا کرنی چاہیے۔
ففی الفقه الأكبر: والكرامات للأولياء حق الخ (ص: 51)۔
وفی أصول الدين عند الإمام أبي حنيفة: وكذلك يثبت أبو حنيفة الكرامة للأولياء، و هي أمر خارق للعادة يجريها الله على يد عبد صالح متبع للشرع غير مقارن بدعوى النبوة الخ (ص: 478)۔
وفی شرح الطحاوية: قَالَ أَبُو عَلِيٍّ الْجُوزَجَانِيُّ: كُنْ طَالِبًا لِلِاسْتِقَامَةِ، لَا طَالِبًا لِلْكَرَامَةِ، فَإِنَّ نَفْسَكَ مُتَحَرِّكَةٌ فِي طَلَبِ الْكَرَامَةِ، وَرَبُّكَ يَطْلُبُ مِنْكَ الِاسْتِقَامَةَ. قَالَ الشَّيْخُ السُّهْرَوَرْدِيُّ فِي "عَوَارِفِهِ": وَهَذَا أَصْلٌ كَبِيرٌ فِي الْبَابِ الخ(ص: 495)۔