میرے ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ قرآن کریم میں جنت کے اندر جو غلمان (خوبصورت چھوٹے بچے) کا ذکر ہے ان سے جماع بھی کرسکتے ہیں؟ براہِ کرم راہنمائی فرمائیں۔
سائل کے دوست کی مذکور بات کم علمی اور جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ لواطت (پیچھے کے راستے میں جماع کرنا) شرعاً حرام اور عقل و طبع کے خلاف ہونے کی وجہ سے سلیم الفطرۃ و شریف چیز سے پاک ہے جس سے طبیعت گھن و کراہت محسوس کرے۔
نیز جنت میں اس قسم کے غلط و ناپاک خیالات بھی نہیں آئیں گے۔ لہٰذا اس قسم کی واہیات میں پڑ کر اپنا وقت ضائع کرنے کے بجائے اللہ تعالیٰ کی یاد اس کی عبادت کا ہتمام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اور جو وہاں ہونے والا ہے وہ خود بخود سامنے آجائےگا۔
ففی الدر المختار: (ولا تكون) اللواطة (في الجنة على الصحيح) لأنه تعالى استقبحها وسماها خبيثة، والجنة منزهة عنها فتح. وفي الاشتباه: حرمتها عقلية فلا وجود لها في الجنة. (إلی قوله) وفي البحر حرمتها أشد من الزنا لحرمتها عقلا وشرعا وطبعا اھ(4/ 28) والله أعلم بالصواب!
محض مسلم یا غیر مسلم گھرانے میں پیدا ہونے کی وجہ سے جنتی یا جہنمی ہونے کا اطلاق نہیں ہوتا
یونیکوڈ جنت 0