السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق اسٹامپ پیپر پر دیدی تھیں، آج اس بات کو آٹھ ماہ گزر چکے ہیں، اور ہم دوبارہ نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس میں شرعی احکامات سے مجھے آگاہ کردیں؟ اور اس کا فتوی مجھے دے دیں، شکریہ۔
سائل نے آٹھ ماہ قبل جب اسٹامپ کے ذریعے تحریری طور پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدیں، تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمت مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہوسکتا اور بغیر حلالہ شرعیہ کے دوبارہ باہم عقدنکاح بھی نہیں ہوسکتا، جبکہ عورت ایام عدت کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے۔
اور حلالہ شرعیہ یہ ہے کہ عورت اپنے شوہر سے علیحدگی اور عدت طلاق گزرنے کے بعد بغیر کسی شرط کے کسی دوسرے مسلمان سے نکاح کرے ، اور حقوق زوجیت ادا کرے، چنانچہ اگر وہ دوسرا شخص بھی اس سے ایک مرتبہ ہمبستری( جو کہ حلالہ شرعیہ کے تحقق ضروری ہے) کے فوراً بعد یا پھر ازدواجی زندگی کے کچھ عرصہ بعد طلاق دیدے، یا بیوی سے پہلے شوہر کا انتقال ہوجائے، بہر صورت اس کی عدت گزارنے کے بعد اگر وہ پہلے شوہر کے نکاح میں آنا چاہے، اور پہلا شوہر بھی اس کو رکھنے پر رضامند ہو، تو نئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجوگی میں دوبارہ عقد نکاح کر کے باہم میاں بیوی کی حیثیت سے زندگی بسر کرسکتے ہیں، تاہم حلالہ اس شرط کے ساتھ کرنا کہ زوج ثانی بیوی کو نکاح کے بعد طلاق دے گا، تاکہ وہ زوج اول کے لیے حلال ہوجائے، مکروہ ہے، جس پر احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، البتہ بغیر کسی شرط کے اس کے ساتھ نکاح کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے۔
قال اللہ تعالی: فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ (سورۃ البقرۃ ایة 230)۔
وفی الھندیة: وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية الخ (1/473)۔
وفی الدرالمختار: كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، الخ (3/246)۔
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1