کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو تین بار طلاق دی ہے ، تو براہ کرم راہ نمائی فرمائیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں ؟ اور اب ہمارے لیے کیا حکم ہے ؟
نوٹ: الفاظ طلاق یہ تھے" کہ تم مجھ پر طلاق ہو ، تم مجھ پر طلاق ہو ، تم مجھ پر طلاق ہو"۔
سائل نے جب اپنی بیوی کو مذکور الفاظ" تم مجھ پر طلاق ہو، تم مجھ پر طلاق ہو، تم مجھ پر طلاق ہو، کہہ دئیے تو اس سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے ، اب رجوع نہیں ہو سکتا اور حلالہ شرعیہ کے بغیر باہم عقد نکاح بھی نہیں ہوسکتا، لہذا دونوں پر لازم ہے کہ فوراً ایک دوسرے سے علیحدگی اختیار کریں اور میاں بیوی والے تعلقات ہرگز قائم نہ کریں، ورنہ دونوں سخت گنہگار ہوں گے، جبکہ عورت ایام ِ عدت گزرنے کے بعد اپنی مرضی سے دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہوگی۔
کمافي الهندية : وإن كان الطلاق ثلاثا فى الحرة ،أو تثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحاً صحيحاً ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها کذا فی الہدایۃالخ (فصل فی ما تحل لہ بہ المطلقۃ ، ج1، ص 437، ط: ماجدیۃ)۔
حنفی کا تین طلاق دینے کے بعد غیر مقلدین کے فتوی پر عمل کرنے پر اصرارکرنا
یونیکوڈ حلالہ اور طلاق مغلظہ 0