میں کچھ عرصے سے شریعت کے مطابق کمپنیوں کے شیئرز میں سرمایہ کاری کر رہا ہوں، حتیٰ کہ اپنی معلومات کے مطابق کوشش کرتا ہوں کہ حلال کمپنیوں میں ہی سرمایہ لگاؤں، لیکن بعض اوقات ذہن میں الجھن پیدا ہوتی ہے۔ حال ہی میں میں نے دارالافتاء دیوبند، انڈیا کا ایک فتویٰ (نمبر: 75/48=1429/H) پڑھا، جس میں لکھا تھا کہ شراکت داری کی نیت سے شیئرز خریدنا حلال ہے، لیکن صرف نفع یا نقصان کے لئے خریدنا حلال نہیں۔ ممکن ہے کہ میں فتویٰ کو صحیح نہ سمجھ سکا ہوں، مگر اسی بات نے مجھے الجھا دیا ہے۔ کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ تقریباً تمام لوگ جو شیئرز میں سرمایہ کاری کرتے ہیں ،وہ نفع یا نقصان کے لئے ہی کرتے ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ کسی کی حکمتِ عملی قلیل مدتی، کسی کی درمیانی اور کسی کی طویل مدتی ہوتی ہے۔ شیئر خریدنے کا مطلب خود بخود کمپنی کا پارٹنر بننا ہے، لیکن نیت اور مقصد نفع کمانا ہی ہوتا ہے، اور خریدار کسی بھی وقت چاہے اُسی دن، ہفتے، مہینے یا سال کے بعد اسے بیچ سکتا ہے۔ اب اگر اس فتوے کے مطابق صرف نفع کمانے کے لئے شیئرز خریدنا حلال نہیں، تو اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ ساری سرگرمی ہی غیر شرعی ہو گئی۔ لہٰذا میں درخواست کرتا ہوں کہ اس مسئلے کی وضاحت فرمائیں ، تاکہ ہزاروں لوگ اگر غیر شرعی سرمایہ کاری میں ملوث ہیں تو وہ اس سے بچ سکیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ آج کل شیئرز کی ”فزیکل ملکیت“ ممکن نہیں، کیونکہ سب کچھ ڈیجیٹل ہو چکا ہے۔ جب ہم شیئر خریدتے ہیں تو وہ ہمارے اکاؤنٹ میں آجاتے ہیں اور رقم کٹ جاتی ہے، اور یہ معاملہ مکمل ہو جاتا ہے۔ کیا قبضہ(ملکیت حاصل کرنے) کی یہ صورت شرعی شرط پوری کرتی ہے؟جزاکم اللہ خیراً
کسی شخص کا شئیرز خریدنے سے مقصود اس کمپنی کا حصہ دار بننا اور گھر بیٹھ کر سالانہ نفع حاصل کرنا ہو ، تو ایسی صورت میں درج ذیل شرائط کے ساتھ کمپنی کے شئیرز خریدنے کی اجازت ہوگی :
(۱)جس کمپنی کے شئیرز خریدنا مقصود ہو ، اس کا اصل کاروبار حلال ہو ، ناجائز اور حرام اشیاء جیسے: شراب وغیرہ بنانے کی فیکٹری نہ ہو ، اور اس کمپنی کا تمام تر کاروبار سود پر مبنی نہ ہو ۔اور اگر اس کے منافع میں سودی رقم ضمنی طورپرکسی ذرائع سے شامل ہورہی ہوتو اس کا تناسب کل منافع کے 5% فیصد سے کم ہو۔
(۲) اس کمپنی کے منجمد اثاثہ وجود میں آچکے ہو ، رقم صرف نقد کی شکل میں نہ ہو ۔
(۳) اگر کمپنی جزوی طور پر سود کا لین دین کرتی ہو ، تو اس کی سالانہ میٹنگ میں سود کے خلاف آواز اٹھائی جائے ۔
(۴)جب منافع تقسیم ہو ، اس وقت نفع کا جتناحصہ سودی ڈپازٹ سے حاصل ہوا ہے، اس کو بلا نیتِ ثواب صدقہ کردے ۔
یہ تب ہےکہ جب شیئرز خریدنے کا مقصد کسی کمپنی کا حصہ دار بننا اور گھر بیٹھ کر اس کا سالانہ منافع حاصل کرنا ہو۔
جبکہ بعض لوگ شیئرز کو مذکورہ غرض سے نہیں خریدتے، بلکہ ان کامقصد کیپٹل گین ہوتا ہے، یعنی وہ لوگ اس کا اندازہ کرتے ہیں کہ کس کمپنی کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ کا امکان ہے،چنانچہ اس کمپنی کے شیئرز خرید لیتے ہیں اور پھر چند روز بعد جب شیئرزان کے نام ٹرانسفر ہوجائےاور ان کی قیمت بڑھ جاتی ہےتو انکو فروخت کرکے نفع حاصل کرلیتے ہیں،مذکورہ شرائط کے ساتھ اس معاملے کی بھی شرعاً گنجائش ہے، لیکن اس کو درست کہنے میں دشواری ’’سٹہ بازی‘‘ کے وقت پیش آ تی ہے، جو اسٹاک ایکسچینج کا بہت بڑا اور اہم حصہ ہے، جس میں بسا اوقات شیئرز کا لین دین بالکل مقصود نہیں ہوتا، بلکہ آخر میں جاکر آپس کا فرق (ڈیفرنس) برابر کرلیا جاتا ہے اور شیئرز پر نہ تو قبضہ ہوتا ہے اور نہ ہی قبضہ پیشِ نظر ہوتا ہے، لہٰذا جہاں یہ صورت ہو کہ قبضہ بالکل نہ ہو اور نہ ہی لینا دینا مقصود ہو، بلکہ اصل مقصد سٹہ بازی کرکے ڈیفرنس کو برابر کر لینا ہو تو یہ صورت بالکل حرام ہے اور شریعت میں اس کی اجازت نہیں ہے، اسی طرح بعض اوقات شیئرز پر قبضہ اور ڈیلیوری سے پہلے ہی ان کو آگے فروخت کردیا جاتا ہے، اس کی بھی شریعت میں اجازت نہیں ہے، کیونکہ شیئرز پر قبضہ ضروری ہے اور شیئرز کا قبضہ یہ ہے کہ شیئرز ہولڈر اس کے نفع و نقصان کا حقدار بن جائے، جس کو "رِسک " میں آ نے سے تعبیر کیا جاتا ہےتو یہ قبضہ سمجھاجائے گا اور آ گے فروخت کرنا جائز ہوگا، ورنہ جائز نہیں ہوگا۔( سوال کے ساتھ منسلکہ دارالافتاء دارلعلوم دیوبند،انڈیا سے یہی صورت مرادہے )
کمافی البدائع: (ومنها) : أن يكون الربح معلوم القدر، (إلی قولہ) (ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ (إلی قولہ) (أما) الشركة بالأموال فلها شروط: (منها) أن يكون رأس المال من الأثمان المطلقة وهي التي لا تتعين بالتعيين،(إلی قولہ) (ومنها) : أن يكون رأس مال الشركة عينا حاضرا لا دينا، ولا مالا غائبا،الخ (کتاب الشرکۃ، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج 6، ص 59-60، ط: ایچ ایم سعید)-
وفیہ ایضاً: (وأما) شركة العنان فلا يراعى لها شرائط المفاوضة، (إلی قولہ) فيجوز مع تفاضل الشريكين في رأس المال ومع أن يكون لأحدهما مال آخر يجوز عقد الشركة عليه سوى رأس ماله الذي شاركه صاحبه فيه، (إلی قولہ) إذا شرطا الربح على قدر المالين متساويا أو متفاضلا، فلا شك أنه يجوز ويكون الربح بينهما على الشرط سواء شرطا العمل عليهما أو على أحدهما والوضيعة على قدر المالين متساويا ومتفاضلا؛ لأن الوضيعة اسم لجزء هالك من المال فيتقدر بقدر المال، وإن كان المالان متساويين فشرطا لأحدهما فضلا على ربح ينظر إن شرطا العمل عليهما جميعا جاز، والربح بينهما على الشرط في قول أصحابنا الثلاثة،الخ (کتاب الشرکۃ، فصل في بيان شرائط جواز أنواع الشركة، ج 6، ص 62، ط: ایچ ایم سعید)-
وفی فقہ البیوع: فاذا كان راس المال المصدر 10 ملايين مثلا، فان كان الشركۃ تصدر مليون سهم، ويحق للمساهمين ان يقدموا طلبا للمساهمه بما يشاؤون من اموال، فان كانت طلبات اكثر من راس المال المصدر، فيعطى كل واحد من طالبي المساهمۃ قدر من السهم، اما بالاقتراع واما بالنسبۃ والتناسب، فيكون لبعض الف سهم ولبعضهم انفاسهم، وهكذا، وان هذه العمليۃ بالنسبۃ لطالبي المساهمۃ تسمى "الاكتتاب" ومن قبل طلبه للاكتتاب يعطى ورقۃ تثبت ان حاملها مساهم في هذه الشركۃ، وكل واحد من حاملي السهم يعتبر عضوا في الجمعيۃ العموميۃ للشركۃ التي لها السلطۃ العليا في اتخاذ قرارات اساسيۃ لادارۃ الشركۃ وتعيين نشاطها، وتعيين مجلس الارادۃ وما الى ذلك،
ثم ان الشركۃ ان كان رابحۃ، فانها بعد وضع حصۃ من الارباح في احتياطي، توزع الارباح على حملۃ الاسهم بالنسبۃ والتناسب، وان كل حامل للسهم، له حق في ان يبيع سهمه الى آخر، ليحل المشتري محله في ملكيۃ السهم، وما يتعلق بها من حقوق، وان السوق الذي تباع فيها الاسهم وتشترى تسمى "البورص" الخ (المبحث الثالث فی احکام المبیع والثمن،الباب الاول،الشرط السادس أن یکون المبیع معلوماً، ج 1، ص 379، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
وفیہ ایضاً: ثم ان كان اقتناء اسم شركات جائزا، انطبق على بيعه وشرائه جميع الشروط الشرعيۃ لجواز البيع وصحته، ولذلك لا يجوز لاحد ان يبيع اسهما لا يملكها، كما هو معمول به في البورصات، فان الناس يبيعون اسهما لا يملكونها، وهو ممنوع في الشرعيۃ قطعا، وكذا يجب ان تكون الاسهم مقبوضۃ لدى البايع قبل ان يبيعها الى اخر، وان لا يكون بيعا مضافا الى المستقبل والا يستلزم محظورا اخر مثل الربا، الخ (المبحث الثالث فی احکام المبیع والثمن،الباب الاول،الشرط السادس أن یکون المبیع معلوماً، ج 1، ص 382-383، ط: مکتبۃ معارف القرآن)-
کاروبار اور کاروباری شخص کا تعارف کرانے والے کو بعد میں نقصان کا ذمہ دار ٹھہرانا
یونیکوڈ شیئرز کا کاروبار 0