میری اور شوہر کی لڑائی ہوئی، بات بہت بڑھ گئی اور غصے کی حالت میں پنجابی زبان میں انہوں نے کہا ”ونج طلاق وی“( یعنی چلی جا تجھے طلاق ہے) ساتھ اُسی وقت جاؤ اب نکل جاؤ، چلی جاؤ، نکل جاؤ، پھر کہا ایک دفعہ ہوگئی ہے، پھر کہا ایک دفعہ میں نے دے دی ہے، جب میں نے دوبارہ پوچھا اپنے وسوسے اور وہم کے علم میں اُ س کے کچھ پندرہ، بیس منٹ بعد میں نے پوچھا کہ آپنے کتنی دفعہ بولا اور کیا کہا؟ یہ ساتھ کیوں کہا کہ چلی جاؤں؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ تم کیا مجھ سے دو، تین دفعہ کنفرم کروا رہی ہو؟ میں نے اُسی وقت صاف صاف کہہ دیا تھا کہ ایک دفعہ غصہ میں میرے منہ سے لفظ نکل گیا ہے اور ساتھ ہی میں نے وضاحت کردی کہ ایک دفعہ دے دی ہے، ایک دفعہ ہوگئی ہے، چلی جاؤ ، اس لئے کہا تھا کہ دوبارہ مزید آگے غلط الفاظ نہ نکلیں۔
سوال میں درج کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو اس میں کسی طرح کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا اِس طور پر کہ شوہر نے لڑائی جھگڑے کے دوران مذکور الفاظ”ونج طلاق وی“( یعنی چلی جا تجھے طلاق ہے)فقط ایک مرتبہ کہے ہوں، اس کے علاوہ بقیہ الفاظ ”اب نکل جاؤ، چلی جاؤ، نکل جاؤ “سے اُس کی نیت مزید طلاق دینے کی نہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے، جس کے بعد دورانِ عدت شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے، چنانچہ شوہر اگر دورانِ عدت زبانی طور پر رجوع کر لے ، یا میاں بیوی والے تعلقات قائم کرکے ، یا شہوت کے ساتھ بیوی کو چُھو کر عملی طور پر رجوع کرلے تو اس سے رجوع درست ہو جائیگا، اور دونوں کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا، ورنہ دورانِ عدت رجوع نہ کرنے کی صورت میں عدت گزرنے پر نکاح ختم ہو جائیگا، اس کے بعد دوبارہ ایک ساتھ رہنے کے لئے باقاعدہ شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق ہر کے تقرر کے ساتھ ایجاب و قبول کر کے تجدیدِ نکاح لازم ہوگا، بہرصورت شوہر کو آئندہ کےلئے فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط سے کام لینا چاہیئے۔
کما فی التنویر مع الدر: فالحالات ثلاث: رضا وغضب ومذاكرة والكنايات ثلاث ما يحتمل الرد أو ما يصلح للسب، أو لا ولا (فنحو اخرجي واذهبي وقومي) تقنعي تخمري استتري انتقلي انطلقي اغربي اعزبي من الغربة أو من العزوبة (يحتمل ردا،…(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا اھ (ج3،صـــ298،ط:سعید)۔
وفی الھدایۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل و لا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا و هو الإبقاء و إنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها " و الرجعة أن يقول راجعتك أو راجعت امرأتي " وهذا صريح في الرجعة ولا خلاف فيه بين الأئمة. قال: " أو يطأها أو يقبلها أو يلمسها بشهوة أو ینظر إلى فرجها بشهوة " وهذا عندنا اھ (ج2،صـــ405،ط:رحمانیہ)۔
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1