السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ 20 مئی 2024 کو میری اور میری بیوی کی بہت زیادہ لڑائی ہوئی، وہ زبان چلا رہی تھی، میں بھی بہت زیادہ غصّے میں تھا، پھر اس نے مجھے مجبور کیا کہ میں اس کو چھوڑ دوں ،تو میں نے بھی ٖغصہ میں اس کو اس طرح ایک بار کہہ دیا "میں راحیل تمہیں طلاق دیتا ہوں" صرف ایک بار کہا تھا ،پھر وہ گھر چلی گئی اور مجھے بلاک کردیا تو میں نے اس کی بہن سے رابطہ کیا 22 مئی کو، اس کی بہن کو کچھ پتہ ہی نہیں تھا میں نے سب بتایا کہ اس طرح سے معاملہ ہوگیا آپ سمجھاؤ اس کو ،تو ہمارا گھر خراب نہیں ہوگا ، اس نے بھی مجھے تسلی دی کہ میں گھر پر بات کرتی ہوں، رات کو اس نے کوئی جواب نہیں دیا اور مجھے بلاک کردیا، خیر پھر میری بیوی نے مجھ سے خود ابھی 12 جولائی کو ان بلاک کرکے رابطہ کیا، ہماری بات ہوئی تین دن تک ملاقات بھی ہوئی سب میسیجس ہیں، میں نے کہا کہ اپنے گھر میں بات کرو ایک بار سے طلاق نہیں ہوتی، اس نے کہا آپ آکر بات کرلو خود، میں گیا انٹی سے بات کرنے تو بات چل رہی تھی اور جس طرح سے وہ بات کر رہی تھی تو مجھے لگ رہا تھا کہ معاملہ صحیح ہو جائے گا، دس منٹ ہوئے تھے کہ گیٹ بجا تو میرا سالہ آگیا، اس نے مجھے دیکھا تو میری بیوی کو گالیاں دی، اور کہا کہ کیوں بلایا اس کو، ہماری عزت خراب کر وارہی ہے ، آنٹی نے مجھے کہا کہ آپ جاؤ، میں چلا گیااور پھر مجھے بلاک کردیا اور اب طلاق کا نوٹس بھیج رہے ہیں۔
سائل نے لڑائی جھگڑے کے دوران بیوی کے مطالبے پراسے مذکور الفاظ "میں راحیل تمہیں طلاق دیتا ہوں" اگر فقط ایک دفعہ کہے ہوں ،اس کے علاوہ سائل نے طلاق کے مزید الفاظ استعمال نہ کئے ہوں ،تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہوچکی ہے، جس میں سائل کو دورانِ عدت رجوع کا اختیار حاصل ہے ،چنانچہ سائل اگر اپنی بیوی کو " میں تم سے رجوع کرتا ہوں وغیرہ الفاظ کہہ کر زبانی طور پر رجوع کرے یا میاں بیوی والا تعلق قائم کرکے عملاً رجوع کرلے ، تو یہ رجوع درست ہوجائے گا اور میاں بیوی کا نکاح حسبِ سابق برقرار رہے گا ، اور اگر سائل نے عدت میں رجوع نہ کیا ہو، تو عدت گزر جانے کے بعد یہ طلاق،طلاقِ بائن بن جائے گی ،جس کی وجہ سے میاں بیوی کا نکاح بالکلیہ ختم ہوجائیگا ، جس کے بعد سائل کو رجوع کرنے کا اختیار نہ ہوگا اور سائل کی بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی، البتہ اگر میاں و بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنے پر رضامند ہوں، تو اس کے لئے باضابطہ گواہان کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باقاعدہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے نکاح کرنا لازم ہوگا ، تاہم اس رجوع یا نکاح کے بعد آئندہ کے لئے سائل کو فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا ، لہٰذا ایک طلاق دینے کے باوجود بھی اگر میاں بیوی اپنی سابقہ کمی کوتاہیوں پر نادم اور پشیمان ہو کر دوبارہ ایک ساتھ زندگی بسر کرنے پر رضامند ہوں، تو لڑکی کے اہلِ خانہ کو چاہیئے کہ لڑکے کو طلاق کے نوٹس بھیج کر اس سے مزید طلاق لینے کے بجائے، ان کاگھر بسانے کی کوشش کرے۔
و فی الھندیۃ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية اھ (ج۱،ص۴۷۰ ، کتاب الطلاق ، ط۔ماجدیہ )۔
وفیھا ایضا : ( فالسنی ) ان یراجعھا بالقول و یشھد علی رجعتھا شاھدین و یعلمھا بذلک فاذا راجعھا بالقول نحو ان یقولھا : راجعتک او راجعت امراتی ولم یشھد علی ذلک او اشھد و لم یعلمھا بذلک فھو یدعی مخالف للسنۃ و الرجعۃ صحیحۃ و ان راجعھا بالفعل مثل ان یطاھا او یقبلھا بشھوۃ او ینظر الی فرجھا بشھوۃ فانہ یصیر مراجعا عندنا الا انہ یکرہ لہ ذلک و یستحب ان یراجعھا بعد ذلک بالاشھاد الخ ( ج 1 صـ 467 کتاب الطلاق الباب السادس فی الرجعۃ ط : ماجدیۃ )
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1