السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ مین مسمی عبد الصمد کا نکاح مسماۃ یاسمین کے ہمراہ ہوا تھا، میری بیوی آٹھ ماہ میرے ساتھ رہی ، پھر ڈیلیوری کیلئے اپنی والدہ کے گھر گئی تھی، ڈیلیوری ہونے کے بعد بھی میری بیوی میرے پاس آنے کو تیار نہیں تھی، اس وجہ سے میسج پر میں نے اس کو ایک طلاق دیدی جس کو اب ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اور اب ہم دونوں میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہتے ہیں ، لہذا رہنمائی فرمائیں کہ اس کا کیا طریقہ کار ہے۔
نوٹ: طلاق کے الفاظ یہ تھے " میں تمہیں طلاق دیتا ہوں "
جبکہ مذکور میسج دار الافتاء کے واٹس یپ پر موجود ہے ۔
سائل نے اپنی بیوی کو میسج کے ذریعہ اگر فقط ایک دفعہ مذکور الفاظ "میں تمہیں طلاق دیتا ہوں" کہے ہوں اسکے علاوہ اسنے طلاق کے الفاظ نہ کہے ہوں تو ایسی صورت میں سائل کی بیوی پر ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی تھی چنانچہ اسکے بعد اگر سائل نے دورانِ عدت زبانی یا بوس وکنار یا میاں بیوی والا تعلق قائم کر کے عملاً رجوع نہ کیا ہو تو عدت گزرنے پر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوچکا ہے , لہذا اب رجوع نہیں ہوسکتا البتہ اگر میاں بیوی دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اسکے لئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حقِ مہر کے تقرر کیساتھ ایجاب و قبول کرتے ہوئے باقاعدہ نکاح کرنا لازم ہوگا -
تاہم اس نکاح کے بعد آئندہ کیلئے سائل کو فقط دو 2 طلاقوں کا اختیار ہوگا ، اس لئے آئندہ طلاق کے معاملے میں احتیاط سے کام لینا چاہئیے ۔
و فی الدر المختار: (و یقع بھا) أی بھذہ الألفاظ وما بمعناھا من الصریح الخ
و فی رد المحتار: تحت (قولہ وما بمعناھا من الصریح) أی مثل ما سیذکرہ من نحو: کونی طالقا واطلقی ویامطلقۃ بالتشدید، و کذا المضارع إذا غلب فی الحال مثل اطلقک کما فی البحر اھ (کتاب الطلاق باب الصریح ج3 صـ 248 ط: سعید)
و فی الدر المختار: (وفی أنت طالق) أو طلاق (أو أنت طالق طلاق یقع واحدۃ رجعیۃ الخ (کتاب الطلاق باب الصریح ج 3 صـ 251 ط: سعید)
و فی رد المحتار: تحت (قولہ لا رجعۃ فیہ) فلو تخلل (إلی قولہ) إن کانت بالقول أو نحو القبلۃ أو اللمس عن شھوۃ الخ (کتاب الطلاق ج3 صـ 233 ط: سعید)
وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها الخ (کتاب الطلاق ج 1 صـ470 ط: ماجدیۃ)
و فی الھدایۃ: وإذا کان الطلاق بائنا دون الثلاث: فلہ أن یتزوجھا فی العدۃ، وبعد انقضائھا لأن حل المحلیۃ باق، لأن زوالہ معلق بالطلقۃ الثالثۃ الخ (کتاب الطلاق فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ج 2 ص ـ92 ط: انعامیۃ)
وفی الھندیۃ: بأن کتب أما بعد فأنت طالق فکلما کتب ھذا یقع الطلاق وتلزمھا العدۃ من وقت الکتابۃ (کتاب الطلاق الباب الثانی ج1 صـ378 ط: ماجدیۃ)
پشتو زبان میں بیوی کو "زمانہ خلاصہ دہ " یا" زمانہ پاتے دہ "کہنے سے طلاق واقع ہوگی؟
یونیکوڈ رجوع طلاق 1