السلام علیکم و رحمۃالله و برکاتہ !کیا فرماتے ھیں علمائے دین مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے متعلق کہ حضرت امام جعفر الصادق (بن امام محمد الباقر بن امام علی زین العابدین بن امام حسین بن امام علی بن ابی طالب) جن كا دور 83 ہجری سے 148 ہجری تھا یا 702 عیسوی سے 765 عیسوی تھا اور انکی مکمل زندگی مدینہ منورہ ہی میں بسر ہوئی نے کیا کوئی ایسی فقہ سکھائی تھی کہ جو انہوں نے نسل بعد نسل اپنے اجداد کرام سے سیکھی تھی، یعنی جو دراصل رسول الله صلی الله علیہ و علی آلہ و بارک و سلم کی تعلیم کردہ فقہ تھی؟
نیز کیا امام جعفر الصادق نے بیشمار احادیث جو انہوں نے نسل بعد نسل اپنے اجداد کرام سے سنی ہوئی تھیں، بیان کی تھیں ؟
اگر واقعی ایسا سب تھا تو کیا صرف فقہ جعفری پر عمل کرنا اور صرف امام جعفر الصادق کی احادیث پر عمل کرنا ہم پر فرض نہیں ؟اور اگر نہیں تو کیوں ؟کیا ایسا کچھ حقیقت میں کبھی تھا ہی نہیں، یعنی امام جعفر الصادق نے نہ کوئی فقہ دی تھی، نہ ہی وه احادیث بیان فرمایا کرتے تھے ،یا پھر کیا وجہ ہے کہ ہم ان کی فقہ پر عمل نہیں کرتے، نہ ہی انکی احادیث کبھی سنیں ؟
واضح ہو کہ حضرت امام جعفر الصادقؒ (متوفی 148ھ) جلیل القدر تابعی، اہلِ بیتِ اطہار کے عظیم فرد، علم و تقویٰ کے بلند مرتبہ پر فائز،امام اور امتِ مسلمہ کے متفقہ طور پر معزز پیشوا ہیں۔ ان کا تعلق براہِ راست رسول اللہ ﷺ کے اہلِ بیت سے ہے، اور انہوں نے اپنے والد حضرت امام محمد الباقرؒ اور دیگر اکابر تابعین و علماء سے علم حاصل کیا۔بلاشبہہ امام جعفر الصادقؒ نے دین، شریعت اور احکامِ اسلام کی تعلیم دی، اور وہ قرآن و سنت کی روشنی میں مسائل بیان فرماتے تھے۔ تاہم انہوں نے کسی مستقل، مدوّن اور باقاعدہ فقہی مذہب کی بنیاد نہیں رکھی، جیسا کہ بعد میں فقہ حنفی، مالکی، شافعی اور حنبلی کی صورت میں مرتب ہوا۔ جو چیز "فقہ جعفری" کے نام سے معروف ہے، وہ امام جعفر الصادقؒ کی حیات میں ایک مکمل فقہی نظام کی صورت میں موجود نہ تھی، بلکہ یہ بعد کے ادوار میں ان کی طرف منسوب کی گئی، جس میں بہت سے مسائل ایسے بھی شامل ہو گئے جن کا ان سے ثابت ہونا محلِّ نظر ہے۔اسی طرح امام جعفر الصادقؒ نے یقیناً احادیثِ نبویہ بیان فرمائی ہیں، اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ اور معتبر راوی ہیں۔ ان کی مرویات صحاح ستہ سمیت دیگر کتبِ حدیث میں موجود ہیں، اوراہلِ سنت کے نزدیک امام جعفر الصادقؒ کی احادیث قابلِ قبول ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ وہ حدیث کے اصول (سند، اتصال، ضبط وغیرہ) کے مطابق ثابت ہوں۔ اس بنا پر ان کی بعض احادیث قبول کی گئی ہیں اور بعض کو اصولِ حدیث کی بنا پر قبول نہیں کیا گیا۔لہذا عام مسلمانوں میں امام جعفر الصادقؒ کی فقہ و احادیث کا ذکر کم ملنا اس کی وجہ یہ نہیں کہ امام جعفر الصادقؒ نے فقہ یا حدیث بیان ہی نہیں کی، بلکہ اصل وجہ یہ ہے امام جعفر الصادقؒ کے اقوال و فتاویٰ اس صورت میں منقول نہیں ہوئے کہ ایک مکمل فقہی مذہب کی شکل اختیار کر لیتے۔
رہی یہ بات کہ امت پر صرف امام جعفر الصادقؒ جیسے جلیل القدر شخصیت کی فقہ یا صرف ان ہی کی مرویات پر عمل کولازم یا فرض قرار دیا جائے،یہ چیز عقلاًوشرعاًمحال ہے،کیونکہ شریعت کا اصل ماخذکسی امام کی ذات نہیں، بلکہ قرآن و سنتِ رسول ﷺ ہے،ائمہ مجتہدین (امام ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ) کی اتباع بھی اس لیے کی جاتی ہے کہ ان سب نے اپنے اجتہادات قرآن و سنت ہی سے اخذ کیے ہیں۔جبکہ خود امام جعفر الصادقؒ نےبھی کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ دیگراہل علم کی آراءکوترک کرکے صرف انہی کی پیروی لازماًاختیارکی جائے ۔لہٰذا امام جعفرالصادق ؒ کی فقہ کو “واحداور واجب العمل فقہ” قرار دینا درست نہیں،اس قسم کے افکارونظریات سے احترازچاہیے۔
کما فی سیر اعلام النبلاء:حدث عن: أبيه، أبي جعفر الباقر، وعبيد الله بن أبي رافع، وعروة بن الزبير، وعطاء بن أبي رباح -وروايته عنه في "مسلم"- وجده؛ القاسم بن محمد، ونافع العمري، ومحمد بن المنكدر، والزهري، ومسلم بن أبي مريم، وغيرهم،وليس هوبالمكثر إلاعن أبيه،وكانامن جلةعلماءالمدينة الخ(الطبقۃ الخامسۃ،ج6،ص362،ط:دار الحدیث القاھرۃ)۔
وفی فیض القدیر: ويجب علينا أن نعتقد أن الأئمة الأربعة والسفيانين والأوزاعي وداود الظاهري وإسحاق بن راهويه وسائر الأئمة على هدى ولا التفات لمن تكلم فيهم بما هم بريئون منه (الی قولہ) لكن لا يجوز تقليد الصحابة وكذا التابعين كما قاله إمام الحرمين من كل من لم يدون مذهبه فيمتنع تقليد غير الأربعة في القضاء والافتاء لأن المذاهب الأربعة انتشرت وتحررت حتى ظهر تقييد مطلقها وتخصيص عامها بخلاف غيرهم لانقراض اتباعهم الخ(الحدیث:اختلاف امتی رحمۃ الخ،ج1،ص 209،ط:المکتبۃ التجاریۃ الکبریٰ)۔